۱؎ یہ درخت شجرہ طوبی ہے جس کے ہر پتہ پر لکھا ہے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ۔سایہ سے مراد اس کے نیچے کا ایریا وہاں کا علاقہ ہے،یا تجلی الٰہی اور وہاں کی نورانیت،اس کا سایہ ہوگا،یا خود اس درخت کا نور،ظل دھوپ اور روشنی کو بھی کہتے ہیں۔غرضکہ یہ سورج والا سایہ مراد نہیں کہ وہاں سورج نہیں ہوگا۔سو اس سے مراد اتنا عرصہ ہے کہ اگر وہاں دن رات مہینے و سال ہوتے تو سو سال لگتے۔
۲؎ اس کی شرح ابھی کچھ پہلے گزر چکی ہے۔قاب کے معنی ہیں برابر یا اندازہ،رب فرماتاہے:"فَکَانَ قَابَ قَوْسَیۡنِ اَوْ اَدْنٰی"کنارہ کمان کو بھی قاب کہتے ہیں۔(اشعہ)اس سے مراد ہے کم سے کم جگہ ورنہ وہاں کسی جنتی کو اتنی چھوٹی جگہ نہ ملے گی وہاں تو ادنی جنتی کا علاقہ دنیا بھر سے زیادہ ہوگا۔