Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
450 - 4047
حدیث نمبر 450
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ  علیہ و سلم نے کہ جنت میں ایک درخت ہے جس کے سایہ میں سوار سو برس چلے گا ۱؎ اور وہ طے نہ کرسکے گا اور تم میں سے ایک کے کمان کی جگہ جنت میں اس سے بہتر ہے جس پر سورج طلوع یا غروب ہوگا۲؎  (مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ یہ درخت شجرہ طوبی ہے جس کے ہر پتہ پر لکھا ہے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ۔سایہ سے مراد اس کے نیچے کا ایریا وہاں کا علاقہ ہے،یا تجلی الٰہی اور وہاں کی نورانیت،اس کا سایہ ہوگا،یا خود اس درخت کا نور،ظل دھوپ اور روشنی کو بھی کہتے ہیں۔غرضکہ یہ سورج والا سایہ مراد نہیں کہ وہاں سورج نہیں ہوگا۔سو اس سے مراد اتنا عرصہ ہے کہ اگر وہاں دن رات مہینے و سال ہوتے تو سو سال لگتے۔

۲؎  اس کی شرح ابھی کچھ پہلے گزر چکی ہے۔قاب کے معنی ہیں برابر یا اندازہ،رب فرماتاہے:"فَکَانَ قَابَ قَوْسَیۡنِ اَوْ اَدْنٰی"کنارہ کمان کو بھی قاب کہتے ہیں۔(اشعہ)اس سے مراد ہے کم سے کم جگہ ورنہ وہاں کسی جنتی کو اتنی چھوٹی جگہ نہ ملے گی وہاں تو ادنی جنتی کا علاقہ دنیا بھر سے زیادہ ہوگا۔
Flag Counter