Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
401 - 4047
حدیث نمبر 401
روایت ہے حضرت عبد اللہ ابن عمرو رضی اللہ عنھماسے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اﷲ تعالٰی میری امت میں سے ایک شخص کو قیامت کے دن مخلوق کے سامنے چھانٹے گا ۱؎ تو اس کے سامنے ننانوے دفتر پھیلائے جائیں گے ہر دفتر تاحد بصر ہوگا۲؎ پھر فرمائے گا کیا تو ان میں سے کسی چیز کا انکارکرتا ہے۳؎ کیا تجھ پر میرے نگران کاتبین نے ظلم کیا ہے عرض کرے گا نہیں یارب پھر فرمائے گا کیا تیرے پاس کوئی عذر ہے عرض کرے گا نہیں ۵؎ یارب تو فرمائے گا ہمارے پاس تیری ایک نیکی بھی ہے اور تجھ پر ظلم آج نہ ہوگا ۶؎ تو ایک ورقہ نکالا جاوے گا جس میں ہوگا اشہد ان لا الہ الا اللہ وان محمدا عبدہ و رسولہ ۷؎ رب فرمائے گا جا اپنے تول پر حاضر ہو ۸؎  وہ کہے گا یا رب یہ ورقہ ان دفتروں کے مقابل کیا ہے ۹؎ رب فرمائے گا کہ تو ظلم نہیں کیا جائے گا فرمایا کہ پھر یہ دفتر ایک پلے میں اور یہ پرچے دوسرے پلہ میں رکھا جائے گا۱۰؎ تو یہ دفتر ہلکے ہوجائیں گے اوروہ پرچہ بھاری ہوجاوے گا ۱۱؎ اللہ کے نام کے مقابل کوئی چیز وزنی نہ ہو گی ۱۲؎ (ترمذی،ابن ماجہ)
شرح
۱؎ یعنی ایک شخص کو دوسرے لوگوں سے علیحدہ کردیا جاوے گا جس کے ساتھ وہ معاملہ کیا جائے گا جو آگے مذکور ہے۔

۲؎  سجل سین اور جیم کے کسرہ لام کے شد سے بڑی کتاب یعنی دفتر،قرآن کریم میں دفتر کے محافظ فرشتے کو سجل فرمایا گیا ہے "کَطَیِّ السِّجِلِّ لِلْکُتُبِ"یعنی اس شخص کے سامنے اس کے گناہوں کے ننانوے دفتر پیش کیے جائیں گے اسے دکھائے جائیں گی یہ ہے پیشی والا حساب جسے یسیر کہا جاتا ہے۔(مرقات)

۳؎  خیال رہے کہ قیامت میں کوئی شخص اندھا،کانا،بے پڑھا نہ ہوگا ہر جاہل سے جاہل شخص بھی اس دن سب کچھ پڑھے گا۔

۴؎  خیال رہے کہ بندہ کا یہ اقرار جرم ہے رب تعالٰی کو آج بھی پیارا ہے کل قیامت میں بھی پیارا ہوگا۔اللہ تعالٰی  اقرار جرم کی توفیق دے،بہانہ بازیاں اور انکار جرم پر بڑی سخت پکڑ ہے۔اعلٰی حضرت قدس سرہ نے کیا خوب کہا   ؎

عذر بدتراز گنہ کا ذکر کیا 			ہم پہ بے پوچھے ہی رحمت کیجئے

۵؎  یہاں عذر سے مراد اپنی معذوری یا بہانہ ہے جو گناہ کا باعث ہو یعنی کیا تیرے پاس کوئی وجہ گناہ موجود ہے، مجبوری،بے خبری وغیرہ بندہ اس کا انکار کرے گا۔عرض کرے گا میں نے بغیرکسی مجبوری بے علمی کے گناہ کیے ہیں میں گنہگار ہوں معافی دے دے، جس لائق میں تھا میں نے کرلیا جو تیری شان عالی کے لائق ہے وہ تو کر،میں گنہگار تو ستار و غفار ہے مہربانی فرما،یا ببول کے درخت میں کانٹے ہی ہوں گے پھل نہیں۔

۶؎  بندے کے اس عذر پر دریا ئے رحمت جوش میں آجاوے گا۔بطاقہ وہ چھوٹا سا پرچہ جو حفاظت کے لیے کپڑے میں لپیٹ کررکھا جاوے،طاقۃ کہتے ہیں کپڑے کی تہہ کو،ب زائد ہے۔(قاموس و لمعات)معلوم ہوتا ہے کہ مؤمن کا کلمہ طیبہ رب کی بارگاہ میں بڑی حفاظت سے رہتا ہے۔

۷؎  یہ کلمہ طیبہ وہ ہوگا جسے مؤمن زندگی میں صدق دل سے پڑھا کرتا تھا اور جو اس نے مرتے وقت پڑھا تھا،اسی پر جان رب کے سپرد کی تھی۔اللہ تعالٰی ہم سب کو کلمہ طیبہ پر خاتمہ نصیب کرے۔ہم نے عرض کیا    ؎

وہ ہی موت ہےوہ زندگی جوخدانصیب کرے ہمیں		 کہ مرے تو ان ہی کے نام پر جو جئے تو ان پہ نثار ہے

۸؎  یعنی میزان اعمال پر جا اپنے ان دفتروں کو اس پرچے سے وزن کرا۔معلوم ہوا کہ وہاں وزن باٹوں سے نہ ہوگا بلکہ نیک اعمال کا برے اعمال سے ہوگا اس لیے حضرات انبیاءکرام اور خاص اولیاء اللہ کے لیے وزن نہیں کہ وہاں گناہ کوئی نہیں پھر وزن کس چیز سے ہو۔

۹؎  یعنی یارب اس وزن سے سوائے میری رسوائی کے اور کیا ہوگا ابھی تو میرا معاملہ تیرے حضور ہے اور جب وزن ہوا تو اس وزن کو سب دیکھیں گی وہاں یہ پرچہ یقینًا ہلکا ہوگا تو میری رسوائی ہی ہوگی اس لیے وزن نہ کرا میرا پردہ رکھ لے۔

۱۰؎  اس طرح کہ نیکیوں کے پلے میں یہ پرچہ رکھا جاوے گا اور گناہوں کے پلہ میں وہ لاکھوں من کے دفتر۔اس سے معلوم ہوا کہ وزن خود اعمال کا نہ ہوگا بلکہ اعمال کی تحریروں کا ہوگا،بعض علماء کا یہ ہی قول ہے۔

۱۱؎  خیال رہے کہ قیامت کے دن وزن بقدر اخلاص ہوگا،منافقین بھی کلمہ پڑھتے تھے آج مرزائی چکڑالوی وغیرہ بھی کلمہ پڑھتے ہیں ان کے کلمہ کا کوئی وزن نہیں گویا یہ بے معنی الفاظ ہیں۔حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے نام کا جب یہ وزن ہے تو سمجھو کہ حضور کے اعمال کا وزن کیساہوگا،حضور کا ایک سجدہ ہم جیسے کروڑوں گنہگاروں کے گناہوں سے زیادہ وزنی ہوگا۔خدا تعالٰی ہماری بدکاریوں کو ہماری نیکیوں سے نہ تولے بلکہ اس راتوں کو رونے والے گنہگاروں کا غم کھانے والے امت کے رکھوالے کے سجدہ سے وزن فرمادے تاکہ ہم ڈوبتوں کا بیڑا پار لگ جاوے۔

۱۲؎  بعض صوفیاء فرماتے ہیں کہ حضور کے اعمال کا وزن نہ ہوگا کیونکہ کارخانہ قدرت میں کوئی تراوز ایسی نہیں بنی جو حضور کے اعمال تول سکے جیسے آج کوئی ترازو ایسی نہیں جو سمندر کاپانی یا ہوا تول سکے،سورج کی روشنی کا کوئی میٹر نہیں۔
Flag Counter