Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
400 - 4047
حدیث نمبر 400
روایت ہے حضرت حسن سے ۱؎  وہ حضرت ابوہریرہ سے راوی فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ قیامت کے دن لوگوں کی تین پیشا؎ں ہوں گی دو پیشا ں تو بحث اور معذرت کی ہیں۲؎  اور رہی تیسری پیشی تو اس وقت نامہ اعمال ہاتھوں میں اڑ کر پہنچ جائیں گے۳؎ بعض داہنے ہاتھوں میں لیں گے بعض بائیں ہاتھوں میں۴؎(احمد،ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث اس وجہ سے صحیح نہیں کہ حسن رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوہریرہ سے سنا نہیں ۵؎ بعض محدثین نے یہ حدیث بروایت حسن عن ابی موسیٰ روایت کی ہے ۶؎
شرح
۱؎ حسن سے مراد حضرت خواجہ حسن بصری ہیں،آپ تابعی ہیں،آپ کی والدہ حضرت ام سلمہ کی خادمہ تھیں،ایک بار آپ رو رہے تھے آپ کی ماں ام سلمہ کا کام کررہی تھی،ام المؤمنین نے آپ کو گود میں لے کر اپنا پستان آپ کے منہ میں دیا،اس پستان شریف کی برکت تھی کہ آپ علوم کے دریا بے پایاں ہوگئے تمام طریقت کے سلسلوں کے مرکز ہیں رضی اللہ عنہ۔

۲؎  جدال سے مراد کفار و منافقین کا اپنے جرموں سے انکار کردینا پھر ان کے اعضاء کی گواہی ان کے خلاف۔ معاذیر سے مراد ہے اپنے گناہوں کا اقرار کرنا ساتھ ہی اپنی مجبوری و معذوری پیش کرنا کہ میں نے فلاں مجبوری سے یہ گناہ کیا تھا،پہلے گناہوں کا انکار کریں گے پھر اقرار مع ان بہانوں کے مگر گنہگار مسلمان بغیر حیل و حجت اپنے گناہوں کا اقرار کرلے گا اس پر رحمت ہوگی۔

۳؎  یعنی اس بار سب کے نامہ اعمال نہایت تیزی سے اچانک تقسیم ہوجائیں گے گویا اڑ کر ہاتھوں میں پہنچ گئے پل بھر میں تقسیم ہوگی۔

۴؎  یعنی نامہ اعمال بعض کو داہنے ہاتھ میں دیئے جائیں گے وہ بائیں میں نہ پڑ سکیں گے یہ مؤمنین ہوں گے، بعض کو بائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے یہ داہنے میں نہ لے سکیں گے یہ کفار منافقین ہوں گے،اس سے  ہی  مؤمنین و کفار کی پہچان ہوجائے گی۔جو کہے کہ حضور انور کو اپنے پرائے کی پہچا ن نہ ہوگی وہ جھوٹا ہے۔

۵؎  لہذا یہ حدیث منقطع ہے اس میں کوئی راوی رہ گیا ہے۔خیال رہے کہ بخاری نے تین حدیثیں عن الحسن عن ابی ہریرہ روایت کیں،مسلم نے روایت نہیں کیں۔بخاری کی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ خواجہ حسن بصری کی ملاقات حضرت ابوہریرہ سے ہے یہ تو سب مانتے ہیں کہ آپ نے حضرت ابوہریرہ کا زمانہ پایا ہے غالب ہے کہ ملاقات بھی کی ہو۔(مرقات،اشعہ)

۶؎  صاحب مشکوۃ نے اکمال میں لکھا کہ خواجہ حسن بصری نے حضرت انس ابن مالک سے،ابو موسیٰ اشعری اور عبد اللہ ابن عباس وغیرہم سے ملاقات کی ہے لہذا حسن عن ابی موسیٰ والی روایت ان کے نزدیک متصل ہے۔
Flag Counter