۱؎ یعنی اس آیت کریمہ میں ناقور کے معنی ہیں صور اور نقر کے معنی صور میں پھونکنا لہذا آیت کے معنی ہوئے جب صور میں پھونکا جاوے گا۔ناقور کے لغوی معنی ہیں کریدنے والا کھودنے والا،چونکہ صور دوبارہ پھونکنے پر قبریں اکھیڑ کر مردے باہر ہو جائیں گے اس لیے ناقور کہتے ہیں۔
۲؎ یعنی قرآن مجید کا فرمان "یَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَۃُ تَتْبَعُہَا الرَّادِفَۃُ"میں را جفہ سے مراد صور کا پہلا نفخہ ہے اور رادفہ سے مراد دوسرا نفخہ ۔ راجفہ بنا ہے رجف سے بمعنی کانپنا تھرتھرانا،رادفہ کے معنی ہیں پیچھے آنے والا،چونکہ پہلے نفخہ پر تمام زمین آسمان تھرتھرا کر پھٹیں گے اس لیے اس کا نام راجفہ ہے دوسرا نفخہ اس کے بعد ہے لہذا وہ رادفہ ہے۔