Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
355 - 4047
حدیث نمبر 355
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ دیہاتی لوگ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آتے تھے تو آپ سے قیامت کے متعلق پوچھتے تھے ۱؎ تو آپ ان میں سے سب سے چھوٹے کی طرف نظر فرماتے تھے کہ اگر یہ زندہ رہا تو اسے بڑھاپا نہ آئے گا کہ حتی کہ تم پر تمہاری قیامت قائم ہوجاوے گی ۲؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ وہ لوگ ساعت سے قیامت کبریٰ یعنی حشرونشر کا دن مراد لیتے تھے،پوچھتے تھے کہ اب سے کتنے عرصہ بعد قیامت کبریٰ قائم ہوگی،حضور انور جواب میں یہ نہ فرماتے تھے کہ تم مشرک ہوگئے کہ تم نے قیامت کا سوال مجھ سے کیا یہ تو اللہ تعالٰی ہی کو معلوم ہے کسی اور کو اس کا علم ماننا شرک ہے کفر ہے بلکہ احسن طریقہ سے اس سوال کا جواب دیتے تھے۔

۲؎  یہاں ساعت سے مراد قیامت صغریٰ یعنی ہر ایک کی اپنی موت ہے یا قیامت وسطیٰ یعنی اس قرن کا ختم ہوجانا۔یہ جواب حکیمانہ ہے کہ تم بڑی قیامت کی فکر کیوں کرتے ہو،تم اپنی قیامت کی فکر کرو یعنی موت کی وہ بہت قریب ہے اسی بچہ کے بڑھاپے سے پہلے تم سب مرجاؤ گے۔
Flag Counter