۱؎ وہ لوگ ساعت سے قیامت کبریٰ یعنی حشرونشر کا دن مراد لیتے تھے،پوچھتے تھے کہ اب سے کتنے عرصہ بعد قیامت کبریٰ قائم ہوگی،حضور انور جواب میں یہ نہ فرماتے تھے کہ تم مشرک ہوگئے کہ تم نے قیامت کا سوال مجھ سے کیا یہ تو اللہ تعالٰی ہی کو معلوم ہے کسی اور کو اس کا علم ماننا شرک ہے کفر ہے بلکہ احسن طریقہ سے اس سوال کا جواب دیتے تھے۔
۲؎ یہاں ساعت سے مراد قیامت صغریٰ یعنی ہر ایک کی اپنی موت ہے یا قیامت وسطیٰ یعنی اس قرن کا ختم ہوجانا۔یہ جواب حکیمانہ ہے کہ تم بڑی قیامت کی فکر کیوں کرتے ہو،تم اپنی قیامت کی فکر کرو یعنی موت کی وہ بہت قریب ہے اسی بچہ کے بڑھاپے سے پہلے تم سب مرجاؤ گے۔