| مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم |
روایت ہے حضرت نافع سے فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر مدینہ منورہ کے بعض راستوں میں ابن صیاد سے ملے ۱؎ تو آپ نے اس سے ایسی بات کہی جس نے اسے غضب ناک کردیا تو وہ پھولا حتی کہ گلی بھردی ۲؎ پھر ابن عمر جناب حفصہ کے پاس گئے انہیں یہ خبر پہنچ چکی تھی انہوں نے ان سے کہا اللہ تم پر رحمت کرے تم نے ابن صیاد سے کیا چاہا کیا تمہیں خبرنہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ دجال ایک غصہ کی حالت میں ہی نکلے گا جس پر اسے غصہ آوے گا۳؎(مسلم)
شرح
۱؎ یہ واقعہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات شریف کے بعد کا ہے جیساکہ مضمون حدیث سے واضح ہے۔ ۲؎ حدیث بالکل ظاہر پر ہے واقعی وہ پھول کر اتنا موٹا ہوگیا کہ گلی ساری بھر گئی،اب بھی بعض چیزوں میں ہوا بھردی جاوے تو موٹی ہو جاتی ہیں۔ ۳؎ یعنی اے ابن عمر تم اسے غصہ نہ دلاؤ اگر یہ واقعی دجال ہوا تو ابھی تم اسے غصہ سے دجال بنا دو گے اور ابھی اس کے خروج کا وقت ہے نہیں۔