۱؎ یعنی ساری دنیا کے بڑے شہروں میں وہ خود داخل ہوگا اور چھوٹی بستیوں میں اس کے مبلغ اس کی دہشتناک خبریں پہنچائیں گے جس سے لوگ ڈرکر یا لالچ سے اسے رب مان لیں گے مگر مدینہ منورہ وہ محفوظ و مامون شہر ہوگا جہاں نہ دجال آوے نہ اس کا رعب۔یہاں کے لوگ بالکل محفوظ اور مطمئن ہوں گے یہ ہی امن و امان مکہ معظمہ میں ہوگا،زمین مدینہ میں نہ طاعون داخل ہو اور نہ کوئی وبائی بیماری نہ دجال وغیرہ۔
۲؎ دروازوں سے مراد یا تو راستے ہیں یا خود یہ ہی معروف دروازے یعنی اس دن مدینہ منورہ میں اردگرد چہار دیواری ہوگی اور دیوار میں سات دروازے ہوں گے،اب بھی مدینہ منورہ کے اردگرد کہیں یہ چہار دیواری دیکھی جاتی ہے۔غالبًا اس زمانہ میں یہ چہار دیواری مکمل ہوگی جس میں یہ دروازے ہوں گے،ہر دروازے پر دو فرشتے،ان فرشتوں میں جبریل امین بھی ہوں گے۔وہ جو مشہور ہے کہ حضور کی وفات کے بعد حضرت جبریل زمین پر نہ آئیں گے بالکل غلط ہے۔طبرانی میں ہے کہ جو مؤمن و ضو پر مرے اس کے نزع کے وقت اس کے پاس جبریل آمین آتے ہیں۔(مرقات)