Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
301 - 4047
حدیث نمبر 301
روایت ہے حضرت ابوسعید سے فرماتے ہیں  کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس بلا کا ذکر فرمایا جو اس امت کو پہنچے گی حتی کہ آدمی جائے پناہ نہ پائے گا جہاں ظلم سے پناہ لے تو اللہ تعالٰی میری اولاد اور میرے گھر والوں سے ایک شخص کو بھیجے گا کہ وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھردے گا جیسے وہ ظلم و ستم سے بھری ہوئی تھی اس سے آسمان وزمین کے رہنے والے راضی ہوں گے  ۱؎  آسمان اپنا کوئی قطرہ نہ چھوڑے گا مگر وہ برسا دے گا بہتا ہوا ۲؎  اور زمین اپنی کوئی سبزی نہ چھوڑے گی مگر اگا دے گی ۳؎ حتی کہ زندہ لوگ مردوں کی تمنا کریں گے ۴؎ وہ اسی حالت میں سات سال یا آٹھ سال یا نو سال زندہ رہیں گے ۵؎
شرح
۱؎  یعنی امام مہدی سے دنیا کے لوگ آسمانوں کے فرشتے خوش ہوں گے کیونکہ وہ سلطان عادل بھی ہوں گے ولی کامل بھی،سلطان عادل سے زمین والے خوش رہتے ہیں اور ولی کامل سے آسمان والے راضی لہذا یہ فرمان عالی بالکل درست ہے۔

۲؎  یعنی بوقت ضرورت بارش ہوگی اور پوری ہوگی نہ کم کہ پیداوار کم ہو،نہ زیادہ کہ کھیت تباہ ہوجاوے۔اس فرمان عالی کا یہ مطلب ہے یعنی ضرورت والی بارش پوری آئے گی،یہ مطلب نہیں کہ جتنا پانی سمندروں میں ہے سب ہی برس جاوے گا کہ پھر تودنیا تباہ ہوجاوے ۔

۳؎  یعنی جس قدر پیداوار ہوسکتی ہیں وہ ہوگی اور جس قسم کی چیزیں زمین سے پیدا ہوسکتی ہیں وہ سب پیدا ہوجائیں گی ہر قسم کے دانہ پھل نہایت کثرت سے ہوں گے۔اللہ تعالٰی اپنی رحمتوں کے دروازے کھول دے گا،جب بادشاہ اچھا ہو تو اللہ تعالٰی کی رحمت بہت ہوتی ہے۔

۴؎  یعنی زندہ لوگ آرزو کریں گے  کہ ہمارے مردے آج زندہ ہوتے  تو  وہ بھی آج کی برکتیں  رحمتیں دیکھتے اور ان سے فائدے اٹھاتے۔

۵؎  یہ شک راوی کو ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے سات سال فرمائے یا آٹھ سال یا نو سال مگر گزشتہ حدیث سے ثابت ہوا کہ سات سال کی روایت قوی ہے۔یہاں مشکوۃ شریف نے سفید جگہ چھوڑی ہے تاکہ معلوم ہو کہ اس حدیث کا مخرج صاحب مشکوۃ کو نہ ملا مگر اسے حاکم نے مستدرک میں روایت کیا اور فرمایا یہ حدیث صحیح ہے۔
Flag Counter