۱؎ بعض شارحین نے کہا کہ قریب قیامت بیت المقدس ویران ہوجاوے گا کچھ عرصہ کے بعد آباد ہوگا۔مگر یہ درست نہیں بیت المقدس کبھی ویران نہ ہوگا بلکہ اس سے مراد بیت المقدس کی بہت آبادی ہے یعنی وہاں پانی کی فراوانی،شہریوں کی روانی،اعلٰی عمارتوں کی تعمیر یہ قریب قیامت ہوگی۔(مرقات)
۲؎ اب مدینہ منورہ کو یثرب کہنا منع ہے،یہ فرمان عالی ممانعت سے پہلے کا ہے۔یثرب بنا ہے ثرب سے بمعنی آفت و تکلیف،یثرب کے معنی ہیں آفتوں تکلیفوں کی جگہ،چونکہ مدینہ کی زمین وبائی امراض کا مرکز بلکہ سرچشمہ تھی اس لیے اسے یثرب کہتے تھے،حضور کی برکت سے وہ جگہ دارالشفاء بن گئی وہاں کی خاک شفاء ہوگئی لہذا اس کا نام اب طیبہ ہے۔بعض نے کہا کہ یثرب اس شخص کا نام ہے جس نے مدینہ بسایا تھا۔(اشعہ)مگر اس کی ابتداء ڈالنے والا تبع ہے جس کا واقعہ ہم نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے۔
۳؎ یہ بڑی جنگ وہ ہے جس کا ذکر ابھی ہوچکا کہ اس میں فی صد ایک آدمی بچے گا۔(مرقات و اشعہ)
۴؎ یعنی قسطنطنیہ کی فتح دجال نکلنے کی علامت ہوگی اس سے قریب ہی دجال نکلے گا یہ مطلب نہیں کہ اس کے متصل لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں کہ فتح بیت المقدس پر شیطان پکارے گا کہ دجال نکل آیا مگر یہ خبر جھوٹی ہوگی۔