Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
257 - 4047
حدیث نمبر 257
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ قیامت قائم نہ ہوگی حتی کہ تم ایسی قوم سے جہاد کروگے جن کی جوتیاں بال کی ہونگی  ۱؎   اور حتی کہ تم ترکوں سے جنگ کروگے۲؎ چھوٹی آنکھوں والے سرخ چہرے والے چپٹی ناک والے ان کے چہرے گویا کٹی ہوئی ڈھال ہیں ۳؎ (مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ اس فرمان عالی کے چند معنی کیے گئے ہیں: ایک یہ کہ اس قوم کے سر کے بال پاؤں تک دراز ہوں گے بال گویا جوتے بن گئے ہوں گے۔دوسرے یہ کہ ان کی پنڈلیوں پر بہت بڑے بڑے بال ہوں گے جو ان کے قدموں تک جوتے کی طرح پہنچے ہوں گے۔تیسرے یہ کہ ان کے جوتے بے چھلی کھال کے ہوں گے جن سے بال دور نہ کیے گئے ہوں یعنی خچر کی کھال والے چمڑے کے جوتے پہنتے ہوں گے،یہ تیسرے معنی زیادہ قوی ہیں۔

۲؎  یہاں ترک سے مراد موجودہ ترک نہیں یہ تو قدیم الاسلام خدام الحرمین ہیں،انہوں نے دین رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی بڑی خدمت کی،ان کی خدمتیں مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ وغیرہ میں جاکر دیکھو،وہ ترک یا جوج ماجوج کا ایک قبیلہ ہیں،یا جوج ماجوج کے بائیس قبیلے ہیں اکیس قبیلوں پر ذوالقرنین نے دیوار بنائی اسی قبیلہ کو چھوڑ دیا اس لیے اسے ترک کہتے ہیں یعنی باہر چھوڑا ہوا قبیلہ لہذا حدیث واضح ہے۔(مرقات)

۳؎  یعنی وہ بہت ہی بدصورت ہوں گے،چہرے سرخ آنکھیں چھوٹی،ناک چپٹی چہرے بالکل گول جیسے کٹی ہوئی ڈھال کیونکہ اگر ڈھال کوٹ دی جاوے تو بالکل گول ہوتی ہے۔ان علامات سے معلوم ہورہا ہے کہ ترک سے مراد یہ موجودہ ترک نہیں کہ ان کے چہرے ایسے نہیں ہوتے،یہ لوگ تو بڑے خوبصورت ہیں۔یہاں مرقات میں فرمایا کہ یہ لوگ شکل میں ناس ہیں مگر سیرت میں نستاس یعنی یعنی بن مانس نہایت ہی فسادی خونخوار،یہ جنگ ابھی نہیں ہوئی قریب قیامت ہوگی۔اگلی حدیث سے معلوم ہورہا ہے کہ یہ لوگ خوز اور کرمان سے نکلیں گے۔
Flag Counter