۱؎ اس فرمان عالی کے چند معنی کیے گئے ہیں: ایک یہ کہ اس قوم کے سر کے بال پاؤں تک دراز ہوں گے بال گویا جوتے بن گئے ہوں گے۔دوسرے یہ کہ ان کی پنڈلیوں پر بہت بڑے بڑے بال ہوں گے جو ان کے قدموں تک جوتے کی طرح پہنچے ہوں گے۔تیسرے یہ کہ ان کے جوتے بے چھلی کھال کے ہوں گے جن سے بال دور نہ کیے گئے ہوں یعنی خچر کی کھال والے چمڑے کے جوتے پہنتے ہوں گے،یہ تیسرے معنی زیادہ قوی ہیں۔
۲؎ یہاں ترک سے مراد موجودہ ترک نہیں یہ تو قدیم الاسلام خدام الحرمین ہیں،انہوں نے دین رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی بڑی خدمت کی،ان کی خدمتیں مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ وغیرہ میں جاکر دیکھو،وہ ترک یا جوج ماجوج کا ایک قبیلہ ہیں،یا جوج ماجوج کے بائیس قبیلے ہیں اکیس قبیلوں پر ذوالقرنین نے دیوار بنائی اسی قبیلہ کو چھوڑ دیا اس لیے اسے ترک کہتے ہیں یعنی باہر چھوڑا ہوا قبیلہ لہذا حدیث واضح ہے۔(مرقات)
۳؎ یعنی وہ بہت ہی بدصورت ہوں گے،چہرے سرخ آنکھیں چھوٹی،ناک چپٹی چہرے بالکل گول جیسے کٹی ہوئی ڈھال کیونکہ اگر ڈھال کوٹ دی جاوے تو بالکل گول ہوتی ہے۔ان علامات سے معلوم ہورہا ہے کہ ترک سے مراد یہ موجودہ ترک نہیں کہ ان کے چہرے ایسے نہیں ہوتے،یہ لوگ تو بڑے خوبصورت ہیں۔یہاں مرقات میں فرمایا کہ یہ لوگ شکل میں ناس ہیں مگر سیرت میں نستاس یعنی یعنی بن مانس نہایت ہی فسادی خونخوار،یہ جنگ ابھی نہیں ہوئی قریب قیامت ہوگی۔اگلی حدیث سے معلوم ہورہا ہے کہ یہ لوگ خوز اور کرمان سے نکلیں گے۔