| مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم |
روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پیچھے ایک دن ردیف تھا ۱؎ ایک گدھے پر تو جب ہم مدینہ کے گھروں سے نکل گئے تو فرمایا اے ابوذر اس دن تمہارا کیا حال ہوگا جب مدینہ میں عام بھوک ہوگی ۲؎ تم اپنے بستر سے اٹھو گے تو اپنی مسجد نہ پہنچو گے کہ تم کو بھوک مشقت میں ڈال دے گی۳؎ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا اللہ رسول ہی جانیں، فرمایا پرہیز گار رہنا۴؎ اے ابو ذر فرمایا،اے ابوذر اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب مدینہ میں عام موت پھیل جاوے گی۵؎ کہ گھر غلام کی قیمت کو پہنچ جاوے گا ۶؎ حتی کہ ایک قبر ایک غلام کی عوض بکے گی ۷؎ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا اللہ رسول خوب جانیں،فرمایا صبر کرنا اے ابوذر۸؎ فرمایا اے ابوذر اس وقت تمہارا کیا ہے حال ہوگا جب کہ مدینہ میں قتل عام ہوگا حتی کہ خون ریت کے پتھروں کو ڈبو دے گا ۹؎ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا اللہ رسول خوب جانیں فرمایا ان میں چلے جانا جن میں سے تم ہو۱۰؎ میں نے عرض کیا کہ ہتھیار باندھ لوں فرمایا تب تو تم قوم میں شریک ہوگئے ۱۱؎ میں نے عرض کیا کہ میں کیا کروں یا رسول اللہ فرمایا اگر تمہیں خطرہ ہو کہ تمہیں تلوار کی شعاعیں چوندھیاویں گی تو اپنے کپڑے کا کنارہ اپنے چہرے پر ڈال لینا تاکہ وہ تمہارا اور اپنا گناہ لے کر لوٹے ۱۲؎ (ابوداؤد)
شرح
۱؎ جب ایک گھوڑے یا خچر پر دو آدمی سوار ہوں تو آگے والا مردف ہے پیچھے والا ردیف۔آپ کا یہ فرمانایا تو اللہ کی نعمت ظاہر کرنے کے لیے ہے کہ مجھے حضور انور سے بہت ہی قرب نصیب ہوا یا حدیث کی قوت بتانا مقصود ہے،یعنی یہ فرمان عالی میں نے بہت ہی قریب سے سنا لہذا بالکل صحیح سنا جس میں کوئی شک شبہ نہیں۔ ۲؎ یعنی تمہاری زندگی میں مدینہ منورہ میں عام قحط سالی ہوگی معلوم نہ ہوسکا کہ یہ کس واقعہ کی طرف اشارہ ہے اگر واقعہ حرہ کی طرف اشارہ ہے تو بھوک سے مراد ہے خود ابوذر کا بھوکا ہونا کہ اس وقت جو صحابہ گوشہ نشین ہوگئے تھے وہ بھوکے رہے۔ ۳؎ اس سے معلوم ہوا کہ بھوک سے مراد عام قحط سالی نہیں بلکہ خاص ان کا بھوکا ہونا ہے یعنی تم بھوک کی شدت کی وجہ سے بمشکل مسجد تک پہنچ سکو گے۔ ۴؎ یعنی تم اس وقت بھوک کی وجہ سے رزق کے لیے شریعت کی حدیں مت توڑنا،حلال روزی پر قناعت کرنا اور بھوک کی وجہ سے بددینوں سے تعلق نہ رکھنا۔ ۵؎ یہ عام موت کسی وبائی بیماری کی وجہ سے نہ ہوگی کہ مدینہ منورہ وبا سے محفوظ سے،وہاں دجال طاعون نہیں پہنچ سکتے۔ ۶؎ اس فرمان عالی کی بہت تفسیریں ہیں: ایک یہ کہ مردوں کی زیادتی کی وجہ سے وقف قبرستان تو بھر جائیں گے لوگ مملوکہ زمینوں میں دفن کرنے پر مجبور ہوجائیں گے اور زمینوں کے مالک ایک قبر کی زمین کی اتنی بھاری قیمت وصول کریں گے جتنی قیمت ایک غلام کی ہوتی ہے۔دوسرے یہ کہ ایک قبر کھودنے کی اجرت اتنی زیادہ ہوگی جتنی ایک غلام کی ہوتی ہے۔تیسرے یہ کہ غلاموں کے عوض قبر کی زمین خریدی جاوے گی۔ان صورتوں میں بیت سے مراد قبر ہے۔ تیسرے یہ کہ لوگ اس قدر مرجاویں گے کہ گھر خالی رہ جاویں اور اتنے سستے ہوجاویں گے کہ ایک غلام کی قیمت میں ایک گھر مل جاوے گا۔چوتھے یہ کہ گھر میں ایک غلام سارے گھر کا نگراں ہوگا باقی لوگ یا بیمار ہوں گے یا مرچکے ہوں گے،ان صورتوں میں گھر سے مراد رہائشی گھر ہے۔(اشعہ)مگر پہلے دو معنی زیادہ قوی ہیں جیساکہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔جو امام کفن چور کا ہاتھ کٹواتے ہیں ان کی دلیل یہ حدیث ہے کہ حضور انور نے قبر کو گھر فرمایا تو جیسے گھر میں سے چوری کرنے والے کے ہاتھ کٹتے ہیں ایسے ہی قبر میں سے چوری کرنے والے کے ہاتھ کٹیں گے مگر یہ دلیل نہایت ہی کمزور ہے کیونکہ کفن کسی کی ملکیت نہیں اور غیرمملوک ہے۔ ۷؎ یہ فرمان عالی یا تو الگ جملہ ہے یا پہلے جملے کی شرح ہے،دوسرا احتمال زیادہ قوی ہے۔ ۸؎ یعنی اس شدت میں بھی مدینہ منورہ مت چھوڑنا یہاں ہی صبر سے رہنا کہ مدینہ کی موت دوسری جگہ کی زندگی سے افضل ہے۔شعر ان کے در پر دم نکل جائے تو جی جائیں حسن ان کے در سے دور رہ کر زندگی اچھی نہیں ۹؎ اس فرمان عالی میں اشارہ ہے واقعہ حرہ کی طرف جو یزید مردود کے زمانہ میں بعد واقعہ کربلا ہوا کہ یزید نے مسلم ابن عقبہ کی سر کردگی میں ایک لشکر جرار سے مدینہ منورہ پر حملہ کردیا،تین دن یا پانچ دن مدینہ پاک میں قتل عام کرایا،مسجد نبوی شریف میں کئی دن اذان نہ ہوسکی، مدینہ منورہ کی گلی کوچوں میں حضرات صحابہ و تابعین کا خون پانی کی طرح بہا۔یہاں سے پھر اس لشکر نے مکہ معظمہ کا رخ کیا ابھی یہ لشکر راستہ میں تھا کہ مسلم ابن عقبہ ہلاک ہوا اس کے بعد یزید جہنم رسید ہوا۔احجار الزیت یا تو مدینہ منورہ کے ایک محلہ کا نام ہے یا ایک میدان کا کیونکہ وہاں کالے چکنے پتھر ہیں گویا تیل چپڑے سے ہوں۔اس واقعہ کی تفصیل تاریخ مدینہ میں دیکھو۔(از مرقات و اشعہ) ۱۰؎ یہ جملہ خبر بمعنی امر ہے یعنی تم ان کے پاس چلے جانا جن میں سے تم ہو،یعنی اپنے گھر اپنے بال بچوں میں رہنا بلا ضرورت باہر نہ نکلنا یہ ہی معنی درست ہیں کیونکہ جنگ حرہ میں سوا یزید کے کوئی سلطان تھا ہی نہیں۔ ۱۱؎ یعنی اس موقعہ پر اگر تم بھی جنگ کرنے لگے تو اس فتنہ میں شریک ہوگئے اور اس شرکت سے فتنہ بڑھے گا گھٹے گا نہیں اس لیے اس فتنہ میں حضرت امام زین العابدین اور ان کے ساتھی رضی اللہ عنہم گوشہ نشین رہے یہ تھا اس حکم پر عمل۔ ۱۲؎ یعنی اگر تمہارے گوشہ نشین خانہ نشین ہونے کے باوجود کوئی ظالم سفاک تمہارے گھر میں قتل کرنے آجاوے تو اس کا مقابلہ نہ کرنا بلکہ اپنا آپ چھپاکر خاموش بیٹھے رہنا کہ وہ تمہیں اس صبروشکر کی حالت میں قتل کردے۔خیال رہے کہ یہ فرمانا حضرت ابو ذر سے مگر سنانا ہے دوسرے کو کیونکہ حضرت ابو ذر غفاری نے حرہ کا واقعہ نہیں پایا،آپ کی وفات ۳۲ھ بتیس ہجری خلافت عثمانیہ میں ہوئی اور حرہ کا یہ واقعہ ۶۲ھ میں ہوا،یہ حکم خصوصی طور پر زمین مدینہ میں کشت و خون سے بچنے کے لیے ہے اسی لیے حضرت عثمان غنی شہیدہوئے کہ آپ نے قاتل کا وار روکا بھی نہیں، ظالم کفار سے اپنا بچاؤ ان پر وارکرنا ضروری ہے۔