Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
242 - 4047
حدیث نمبر 242
روایت ہے حضرت حذیفہ سے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول اللہ کیا اس خیر کے بعد شر ہوگی جیسے اس سے پہلے تھی ۱؎ فرمایا ہاں میں نے عرض کیا تو حفاظت کیا ہے فرمایا تلوار ۲؎ میں نے عرض کیا کیا تلوار کے بعد کچھ بقایا ہے۳؎ فرمایا ہاں ہوگی سلطنت ناپسندیدگی۴؎  اور صلح دھوئیں پر ۵؎ میں نے عرض کیا پھر کیا ہوگا فرمایا پھر گمراہی کی طرف بلانے والے پیدا ہوں گے ۶؎ تو اگر زمین میں کوئی اللہ کا خلیفہ ہو وہ تمہارے پشت پر کوڑے مارے اور تمہارا مال لے مگر تم اس کی فرمانبرداری کرنا ۷؎  ورنہ اس طرح مر جانا کہ کسی درخت کی جڑ دانتوں سے پکڑے ہو۸؎  میں نے کہا پھر کیا ہوگا،فرمایا پھر اس کے بعد دجال نکلے گا جس کے ساتھ نہر اور آگ ہوگی تو جو اس کی آگ میں گرے گا اس کا ثواب ثابت ہوجاوے گا اور اس کے گناہ معاف ہوجائیں گے اور جو اس کی نہر میں گرے گا اس کا گناہ ثابت ہوجاوے گا ۹؎  اور اس کا ثواب ضبط،میں نے عرض کیا پھر کیا ہوگا فرمایا پھر گھوڑی بچہ دے گی تو اس پر سواری نہ کی جاسکے گی حتی کہ قیامت قائم ہوجاوے گی۱۰؎ اور ایک روایت میں یوں ہے کہ فرمایا صلح دھوئیں پر اور لوگوں کا اجتماع ناپسندیدگی،میں نے عرض کیا یارسول اللہ کہ دھوئیں پر صلح ۱۱؎ کیا چیز ہے فرمایا کہ قوموں کے دل اس طرح نہ لوٹیں گے جس پر پہلے تھے میں نے عرض کیا کہ کیا اس خیر کے بعد شر ہوگی فرمایا اندھے بہرے فتنے ہوں گے۱۲؎ جن پر کچھ لوگ دوزخ کے دروازوں کی طرف بلانے والے ہوں گے۱۳؎  تو اے حذیفہ اگر تم اس حالت میں وفات پاؤ کہ تم کسی درخت کی جڑ دانت سے پکڑے ہو تو تمہارے لیے اس سے اچھا ہے کہ تم ان میں سے کسی کی پیروی کو۱۴؎(ابوداؤد)
شرح
۱؎ یہاں خیر سے مراد اسلام ہے اور شر سے مراد کفر یا ارتداد یعنی جیسے حضور انور کی تشریف آوری سے پہلے دنیا میں کفر تھا،کیا اب پھر کبھی کفر کا زور ہوجاوے گا۔

۲؎  چونکہ یہاں فتنہ سے مراد ارتداد کا فتنہ ہے جو خلافت صدیقی میں ظاہر ہوا کہ بعض لوگ زکوۃ کے انکاری ہوئے، بعض مسیلمہ کذاب پر ایمان لے آئے ان پر تلوار چلانی ضروری ہوئی لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں جن میں فتنے سے الگ رہنے کا حکم دیا گیا کہ وہاں مسلمانوں کی آپس کی جنگیں مراد ہیں۔

۳؎  یعنی اس فتنہ کے بعد اسلام کی بقاء ہوگی یا پھربھی کچھ فتنے باقی رہیں گے۔

۴؎ اقذاء جمع ہے قذی کی بمعنی آنکھ کا تنکا وغیرہ جس میں بظاہر آنکھ اچھی ہوتی ہے مگر بباطن تکلیف یہاں مراد ہے ناپسندیدگی اور بد دلی یعنی لوگ کسی کو اپنا امیر مانیں گے تو مگر صرف ظاہر سے،ان کے دل اس سے راضی نہ ہوں گے،نیز اس سلطنت میں بدعات وغیرہ ہوں گی۔

۵؎  ھدنہ بنا ہے ھدن سے بمعنی سکون و چین۔دخن بمعنی دخان ہےیعنی لوگ صلح تو کرلیں گے مگر اس صلح میں صفائی نہ ہوگی کدورت ہوگی۔اس میں اشارہ ہے حضرت امام حسن اور امیر معاویہ کی صلح کی طرف اگرچہ یہ صلح تو ہوگی مگر لوگوں کے دلوں میں صفائی نہ ہوئی اس لیے ہمارا مذہب ہے کہ حضرت امیر معاویہ اس صلح کے بعد خلیفہ نہ ہوئے بلکہ سلطان اسلام ہوئے،اسلام میں پہلے خلیفہ حضرت ابوبکر صدیق اور پہلے سلطان امیر معاویہ۔(مرقات)

۶؎  یہ فتنے مروانی دور سے شروع ہوئے جب کہ مسلمانوں میں برے عقیدے بدعات رائج ہوگئیں،ان میں حکام اور امراء بدعمل بدمذہب ہونے لگے۔

۷؎  یہاں خلیفہ سے مراد سلطان اسلام ہے یعنی اگر ظالم بادشاہ بھی ہو تو تم اس کے خلاف بغاوت نہ کرنا کہ بغاوت میں فتنہ پھیلتے ہیں تم اس کی اطاعت ہی کرنا۔

۸؎  جذل بمعنی جڑ،یعنی اگر زمانہ ایسا افراتفری کا ہو کہ مسلمانوں کا بادشاہ کوئی نہ ہو تو تم لوگوں سے الگ ہوجانا،گوشہ نشینی اختیارکرلینا کہ اس زمانہ میں جلوت میں فتنہ ہوگا خلوت میں امن۔دانت سے پکڑنا عربی کی ایک خاص اصطلاح ہے بمعنی مضبوطی سے پکڑنا اور مشکل وقت میں بھی اسے نہ چھوڑنا۔یہاں اشارۃً فرمایا گیا کہ اس وقت گوشہ نشینی بھی مشکل ہوگی مگر یہ مشکل جھیلنا گوشہ نہ چھوڑنا۔

۹؎  ظاہر یہ ہے کہ آگ اور نہر سے ظاہری معنی مراد ہیں۔واقعی دجال کے ساتھ آگ بھی ہوگی پانی بھی مگر اس کی آگ درحقیقت ٹھنڈے پانی کا چشمہ ہوگی اور نہر بھڑکتی ہوئی آگ،وہ مردود اپنے ماننے والوں کو اس نہر میں داخل کرے گا اپنے منکروں کو آگ میں۔

۱۰؎ اس میں اشارہ ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ کی طرف۔اس فرمان عالی کے بہت معنی ہیں: (۱)اس زمانہ پاک میں جہاد نہ ہوں گے اور مسلمان کفار کے مقابل گھوڑوں پر جہاد نہ کریں گے کیونکہ کفار ختم ہوچکے ہوں گے (۲)اس زمانہ میں گھوڑوں پر سواری نہ ہو گی،دوسری سواریاں ہوگی  جن پر سواری کی جاوے گی(۳)دجال کے بعد ایک وقت وہ آئے گا جب قیامت بہت ہی قریب ہوگی حتی کہ گھوڑی کا بچہ جوان اور قابل سواری ہونے سے پہلے قیامت آجاوے گی۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ  دجال ہلاک ہونےکے بعد قیامت اتنی قریب ہوگی  کہ گھوڑی کی جوانی سے پہلے  قیامت آجاوےگی کیونکہ دجال کی ہلاکت کے پانچ سو برس بعد قیامت آوے گی چالیس سال تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی دنیا میں رہیں گے بعد کو چار سو ساٹھ سال بعد قیامت۔

۱۱؎  مطلب وہ ہی ہے صرف عبارت کا فرق ہے۔جماعت سے مراد ہے لوگوں کا کسی کی بیعت پر ظاہری طور پر متفق ہوجانا ہے۔

۱۲؎  یعنی ایسے فتنے جو لوگوں کو اندھا بہرہ کردیں گے کہ لوگ اس وقت نہ حق دیکھیں گے نہ حق سنیں گے،لوگوں کی مت ماری جاوے گی،اس وقت حق ایسا مشتبہ ہوجاوے گا کہ نظر نہ آوے گا۔

۱۳؎  یعنی یہ لوگ خود دوزخ کے دروازوں پر کھڑے ہوں گے اور مخلوق کو اپنی طرف بلاتے ہوں گے،بدعقیدگی بد عمل دوزخ کے دروازے ہیں۔

۱۴؎  یعنی ان فتنہ والوں میں سے کسی کے ساتھ نہ رہو خلوت نشین ہوجاؤ۔
Flag Counter