Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
166 - 4047
الفصل الثالث

تیسری فصل
حدیث نمبر 166
روایت ہے حضرت ابو تمیمہ سے فرماتے ہیں کہ میں حضرت صفوان اور انکے ساتھیوں کے پاس گیا  ۱؎ جب کہ حضرت جندب انہیں وصیت کررہے تھے ۲؎ لوگوں نے کہا کہ کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے کچھ سناہے ۳؎ فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جو اپنی شہرت چاہے گا اللہ قیامت کے دن اس کی شہرت کردے گا ۴؎ جو مشقت میں ڈالے گا اللہ قیامت کے دن اس پر مشقت ڈالے گا ۵؎ لوگوں نے کہا ہم کو وصیت کیجئے فرمایا انسان کی پہلی چیز جو بگڑتی ہے وہ اس کا پیٹ ہے تو جو طاقت رکھے کہ طیب کے سوا کچھ نہ کھائے وہ ضرور ایسا کرے ۶؎  اور جو طاقت رکھے کہ اس کے اور جنت کے درمیان مٹھی بھر خون آڑ نہ بنے جسے وہ بہائے تو وہ ایسا ضرور کرے ۷؎ (بخاری)
شرح
۱؎ ابو تمیمہ کا نام طریف ابن مجالدجہمی ہے،آپ تابعی ہیں، بصری ہیں،۹۵ پچانوے میں آپ کی وفات ہے ،صفوان ابن سلیم زہری بھی تابعی ہیں، حمید ابن عبدالرحمن ابن عوف کے آزادکردہ غلام ہیں،آپ نے چالیس سال کروٹ زمین پر نہ لگائی۔اصحاب سے مراد ان کے شاگرد ہیں۔(مرقات)

۲؎  جندب حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کا نام شریف ہے،آپ مشہور صحابی ہیں،آپ ان حضرات کو ریا،شہرت سے بچنے کی نصیحت فرمارہے تھے جیسا کہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے ۔

۳؎  یعنی اے صحابی رسول اگر آپ نے ریاکاری شہرت کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے کچھ سنا ہو تو ہم کو سنایئے۔

۴؎  اس فرمان عالی کی شرح ابھی کچھ پہلے گزر چکی کہ جو دنیا میں ریاکار شہرت پسند ہوگا رب تعالٰی اسے قیامت میں رسواء عام فرمادے گا یعنی اسے شہرت تو دے گا مگر بدنامی کی۔

۵؎ یعنی جو اپنے نفس پر غیرضروری مشقت ڈال لے گا جیسے رات کو نہ سونا،نکاح نہ کرنا،اچھا نہ کھانا،تارک الدنیا ہو کر رہنا وغیرہ یا جو دوسروں پر مشقت ڈالے گا کہ اپنے نوکروں ماتحتوں سے سخت بھاری کام لے گا تو قیامت میں اس پر عتاب الٰہی کا بوجھ و مشقت ڈالا جاوے گا۔

۶؎ یہ فرمان رسول ہے صلی اللہ علیہ وسلم سبحان اﷲ! کیسا پیارا فرمان ہے۔طب یونانی کہتی ہے کہ نوے فیصدی بیماریاں پیٹ سے پیدا ہوتی ہیں، طب ایمانی بھی کہتی ہے کہ نوے فیصدی گناہ پیٹ سے پیدا ہوتے ہیں،حرام غذا صدہا بیماریوں کی جڑ ہے۔گندا پیٹرول موٹر کی مشین کو خراب کرتا ہے،گندی حرام غذا انسان کی مشینری بگاڑ دیتی ہے لہذا کوشش کرنی چاہیے کہ اکل حلال صدق مقال ہو۔

۷؎ یعنی اگر کوئی شخص اپنے مسلمان بھائی کا لپ بھر خون بھی ظلمًا بہائے گا کہ اسے ظلمًا قتل کرے یا ظلمًا زخمی کرے تو یہ ظلمًا خون اس کے اور جنت کے درمیان حائل ہوجائے گا کہ اسے جنت میں داخل نہ ہونے دے گا لہذا اس سے بچے رہو ایسا نہ ہو کہ حقیر سا گناہ تم کو ایسی عظیم نعمت سے محروم کردے۔خیال رکھو کہ کبھی چھوٹی چنگاری گھر جلا ڈالتی ہے۔
Flag Counter