| مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم |
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ آخر زمانہ میں کچھ لوگ ظاہر ہوں گے جو دین کے بہانہ سے دنیا کمائیں گے ۱؎ لوگوں کے سامنے بھیڑیوں کی کھال پہنیں گے ۲؎ ان کی زبانیں شکر سے زیادہ میٹھی ہوں گی اور ان کے دل بھیڑیوں کے سے ہوں گے۳؎ اﷲ تعالٰی فرماتا ہے کہ کیا مجھ سے دھوکا کھاتے ہیں یا مجھ پر جرأت کرتے ہیں۴؎ میں اپنی قسم فرماتا ہوں کہ ان لوگوں پر انہیں سے ایسا فتنہ بھیجوں گا جو بردبارکو حیران کر چھوڑے گا ۵؎(ترمذی)
شرح
۱؎ یختلون بنا ہے ختل سے،باب ضرب کا مضارع ہے ختل کے معنی ہیں دھوکا دینا یا دھوکے سے کچھ حاصل کرنا یہاں دونوں معنی بن سکتے ہیں یعنی دنیا کو دین کے ذریعہ دھوکا دیں گے یا دین کے بہانہ دنیا کمائیں گے،لوگ اسلام کا نام لے کر قرآن کی آڑ میں جبہ و دستار سے فریب دے کر دنیا کماتے ہیں یہ لوگ بدترین خلق ہیں۔حافظ شیرازی کہتے ہیں حافاومئ خور ورندی کن و خوش باش لے دام تزویر مکن چودگراں قرآن را یہ بیماری جھوٹے عالموں فریبی فقیروں اور بعض سیاسی رہنماؤں میں بہت زیادہ ہے نام اسلامی جماعت مگر اس بہانہ سے سیاسی غرض رکھنا۔ ۲؎ یعنی صرف ان کے کپڑے پہن کر صوفی بنیں گے یا بھیڑ کی کھال۔پہننے سے مراد ہے اپنے کو بہت نرم ظاہر کرنا،گفتار شیریں باتیں نہایت نرم عاجزی تواضع کا اظہار کرنا تاکہ لوگ انہیں تارک الدنیا خدا رسیدہ بزرگ سمجھیں۔ ۳؎ بھیڑیا دھوکہ سے جھپٹ کر شکار کرتا ہے،اس کے پاؤں کی آہٹ سنی نہیں جاتی وہ شکاری بھی ہے دھوکا باز بھی حیلہ ساز بھی اس لیے حضور انور نے انہیں بھیڑیا فرمایاشیر نہ فرمایا۔شیر بہادر ہے حیلہ ساز نہیں،غیرت مند ہے اپنے گھر پر کسی کا شکار نہیں کرتا باہر جا کر مارتا ہے،کسی جانور کا جھوٹا نہیں کھاتا دوسرے اس کا جھوٹا کھاتے ہیں،بھیڑیئے میں یہ اوصاف نہیں،حضور کا ایک کلمہ سچا موتیوں کی لڑی ہوتا ہے۔ ۴؎ یعنی یہ لو گ میرے تحمل میری ڈھیل سے دھوکا کھاتے ہیں اور اسی ڈھیل کی وجہ سے اس حرکت پر دلیر ہوجاتے ہیں۔ ؎ تو مشو مغرور بر حلم خدا دیر گیرد سخت گیرد مر ترا ۵؎ یعنی اس جرم کی سزا آخرت میں جو ملے گی وہ ملے گی دنیا میں یہ سزا ملے گی،ایسے لوگوں پر ظالم بادشاہ مسلط ہوں گے یا قوم میں خون خرابے فساد برپا ہوں گے یا عام قحط سالی عام وبائی بیماریاں پھلیں گی جس سے بڑے حوصلے والے لوگ بھی حیران ہوجائیں گے۔