۱؎ یہاں ھدی سے مراد اندرونی حالات ہیں اور سمت سے مراد ظاہری حالات ہیں جیسے ایمان باطنی عقیدوں کا نام ہے اور اسلام ظاہر ی ارکان کا نام۔(مرقات)
۲؎ میانہ روی ہر چیز میں اچھی ہے کمانے میں،خرچ کرنے میں،کھانے پہننے میں حتی کہ نوافل عبادات میں اور زندگی کے ہر شعبہ میں کہ نہ تو بہت کمی کرے نہ بہت زیادتی،یہ عمل بھی حضرات انبیاء کرام خصوصًا حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا ہے۔اسے پچیسواں حصہ فرمانا اسرار الہیہ میں سے ہے جو مطلب ہے وہ حق ہے۔میانہ چال چلنے والا ہمیشہ کام کرسکتا ہے اور نیکی وہ ہی اچھی جو ہمیشہ کی جاوے گی اگرچہ بہت زیادہ نہ ہو۔