۱؎ سمت سین کے فتحہ میم کے سکون سے بمعنی دائمی عادت۔اقتصاد وہ کام جو افراط و تفریط کے درمیان ہو جیسے جود یعنی سخاوت درمیان ہے فضول خرچی اور بخل کے یا شجاعت درمیانی حالت ہے ظلم اور بزدلی کے۔میانہ روی بعض اچھی ہے بعض بری یہاں اچھی میانہ روی مراد ہے،رب تعالیٰ فرماتاہے:"وَاقْصِدْ فِیۡ مَشْیِکَ"اور فرماتاہے:"اِذَاۤ اَنۡفَقُوۡا لَمْ یُسْرِفُوۡا وَلَمْ یَقْتُرُوۡا وَکَانَ بَیۡنَ ذٰلِکَ قَوَامًا"۔ بعض عارفین فرماتے ہیں کہ علم اچھا ہے جب کہ درمیانی ہوکہ عمل سے نہ روکے،عمل اچھا ہے جب کہ درمیانی ہو کہ علم سے نہ روکے۔(مرقات)
۲؎ یعنی حضرات انبیاء کرام بہت سی صفات سے موصوف ہوتے ہیں ان سے درمیانہ روی بھی ہے جسے یہ نصیب ہوئی اسے نبوت کی خصلت نصیب ہوئی۔چوبیسواں حصہ فرمانا یہ علوم نبوت سے ہے رب تعالیٰ جانے اس سے کیا مراد ہے۔(مرقات)اس کے متعلق کچھ عرض کیا گیا ہے تعبیر خواب کے بیان میں۔