Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
873 - 975
حدیث نمبر 873
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جب مجھے میرے رب نے معراج دی ۱؎  تو میں اس قوم پرگزرا جن کے تانبے کے ناخن تھے کہ وہ اپنے چہرے اور سینے کھرچ رہے تھے ۲؎  تو میں نے پوچھا اے جبریل یہ کون لوگ ہیں عرض کیا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کے گوشت کھاتے ہیں اور ان کی آبرؤوں میں مشغول ہوتے ہیں۳؎(ابوداؤد)
شرح
۱؎  ظاہر یہ ہے کہ یہاں معراج سے مراد جسمانی بیداری کی معراج مراد ہے جو نبوت کے گیارہویں سال ستائیسویں رجب سوموار کی رات ہوئی۔منامی یعنی خواب کی معراجیں حضور کو قریبًا تیس ہوئی ہیں،نماز کی فرضیت اس جسمانی معراج میں ہوئی۔

۲؎  اس طرح کہ ان پر خارش کا عذاب مسلط کردیا گیا تھا اور ناخن تانبے کے دہاردار اور نوکیلے تھے ان سے سینہ چہرہ کھجلاتے تھے اور زخمی ہوتے تھے۔خدا کی پناہ! یہ عذاب سخت عذاب ہے یہ واقعہ بعد قیامت ہوگا جو حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے آنکھوں سے دیکھا۔

۳؎  یعنی یہ لوگ مسلمانوں کی  غیبت کرتے تھے ان کی آبروریزی کرتے تھے،یہ کام عورتیں زیادہ کرتی ہیں انہیں اس سے عبرت لینی چاہیے۔
Flag Counter