| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ کسی مسلمان کو یہ حلال نہیں کہ وہ کسی مسلمان کو تین دن سے زیادہ چھوڑے رہے ۱؎ تو اگر اس پر تین دن گزر جاویں تو یہ اس سے ملے اسے سلام کرے پھر اگر وہ اسے سلام کا جواب دے دے تو دونوں ثواب میں شریک ہوگئے ۲؎ اور اگر جواب نہ دے تو وہ گناہ کے ساتھ لوٹا سلام کرنے والا چھوڑنے سے نکل گیا ۳؎(ابوداؤد)
شرح
۱؎ اس کی شرح اور وجہ پہلے عرض کی جاچکی۔ ۲؎ اصل ثواب میں برابر ہوگئے اگرچہ سلام کی ابتداء کرنے والا اور دوسرے سے ملنے کے لیے جانے والا بڑے ثواب کا مستحق ہے لہذا یہ حدیث گزشتہ حدیث کے خلاف نہیں جس میں صلح کی ابتداء کرنے والے کا درجہ بڑا فرمایا گیا۔ ۳؎ یعنی تین دن تک جو جدائی رہی اس کے گنہگار دونوں تھے اب اس عمل سے یہ صلح میں پیش قدمی کرنے والا تو گناہ سے نکل گیا مگر دوسرا منہ موڑنے والا گناہ میں گرفتار رہا بلکہ یہ دوسرا گناہ اس پر ہوا صلح سے منہ پھیرنا۔