۱؎ ان کا نام حدرد ابن حدرد سلمی ہے،قبیلہ بنی سلیم سے ہیں،آپ صحابی ہیں،آپ سے صرف یہ ہی ایک حدیث مروی ہے،کنیت ابو خراش ہے،آپ کے حالات معلوم نہ ہوسکے،صحابیت میں بڑی فضیلت ہے حالات معلوم ہوں یا نہ ہوں۔
۲؎ یعنی جیسے مسلمان کا ناحق قتل بڑا گناہ ہے ایسے ہی اسے ناحق سال بھر تک چھوڑے رہنا بڑا گناہ۔خون بہانے میں جسم کو تکلیف پہنچتی ہے اتنی دراز مدت تک چھوڑے رہنے سے اس کے دل کو ایذاء پہنچتی ہے۔سال کا ذکر اس لیے فرمایا کہ سال دراز مدت ہے جس میں اکثر مسافر اپنے گھر لوٹ آتے ہیں،اس میں ہر موسم ہوتا ہے،سردی گرمی بہار خزاں جن میں مختلف لوگوں کے مزاج پر اثر ہوتا ہے ایسا سخت دل ہے کہ کسی موسم میں اس کا دل نرم اور غصہ ٹھنڈا نہ ہوا،جو دل سال بھر تک صاف نہ ہو آئندہ اس کے صاف ہونے کی امید نہیں۔