Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
861 - 975
حدیث نمبر 861
روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ مسلمان کو یہ جائز نہیں کہ کسی مسلمان کو تین دن سے زیادہ چھوڑے ۱؎  تو جب اس سے ملے تو اسے تین بار سلام کرے ۲؎  ہر بار میں وہ دوسرا اسے جواب نہ دے تو وہ اس کا گناہ لے کر لوٹا ۳؎(ابوداؤد)
شرح
۱؎ یعنی بہتر تو  یہ ہے کہ تین دن کے لیے بھی نہ چھوڑے لیکن تین دن کے بعد چھوڑے رکھنا تو گناہ ہے اس کی وہ تمام قیدیں خیال میں رہیں جو پہلے بیان ہوئیں۔

۲؎  اگر پہلی بار میں جواب نہ دے تو دوبارہ کرے،اگر دوبار میں بھی جواب نہ دے تو تیسری بار کرے،اگر تیسری بار میں بھی جواب نہ دے تو چوتھی بار نہ کرے کہ تین بار اس سلام کی حد ہے۔یہ سلام مصالحت ہے نہ کہ سلام ملاقات کیونکہ ملاقات کا سلام ایک بار ہوتا ہے،سلام بہت قسم کا ہے اور اس کے الگ الگ احکام۔

۳؎  باثمہ کی ضمیر میں دو احتمال ہیں یا تو یہ سلام کرنے والے کی طرف لوٹ رہی ہے یا اسے رد نہ کرنے والے کی طرف یعنی اگر تین سلاموں کا جواب نہ دیا تو تین دن تک غصہ رہنے کا گناہ جو دونوں کو ہونا تھا اب دوسرے کا گناہ بھی اس پر پڑے گا یا اس چھوڑے رہنے کا گناہ اب صرف اس پر ہوگا وہ سلام کرنے والا گناہ سے بری ہوگیا یا جواب نہ دینے کا گناہ اس پر ہوگا کیونکہ سلام کرنا سنت ہے اور سلام کا جواب دینا فرض ہے۔خیال رہے کہ ہر سلام کا جواب دینا فرض نہیں بلکہ مسلمان کے سلام تحیت کا جواب دینا فرض ہے،تحیت کے علاوہ دوسرے سلاموں کا جواب دینا فرض نہیں،رب تعالیٰ فرماتاہے:"وَ اِذَا حُیِّیۡتُمۡ بِتَحِیَّۃٍ فَحَیُّوۡا بِاَحْسَنَ مِنْہَاۤ اَوْ رُدُّوۡہَا"۔اس آیت میں سلام علیکم نہ فرمایا بلکہ حییتم ارشاد ہوا اسی حکمت کی بنا پر۔
Flag Counter