روایت ہے حضرت اسماء بنت یزید سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ تین مقامات کے سواء کہیں جھوٹ جائز نہیں خاوند کا اپنی بیوی سے جھوٹ بولنا تاکہ اسے راضی کرے اور جھوٹ بولنا جنگ میں ۱؎ اور جھوٹ بولنا تاکہ لوگوں کے درمیان صلح کرائے۲؎ (احمد،ترمذی)
شرح
۱؎ یعنی کفار سے جنگ کرتے ہوئے،مسلمان سے تو جنگ کرنا ہی حرام ہے چہ جائیکہ اس سے جھوٹ بولنا۔دوسری حدیث میں ہے الحرب خدعۃ جنگ تدبیر اور چال کا نام ہے۔ ۲؎ اس طرح کہ مسلمانوں میں مالی جائیدادی وغیرہ جھگڑے دور کردے اگرچہ جھوٹ کے ذریعہ سے کرے یہ جھوٹ درحقیقت جھوٹ نہیں بلکہ اصلاح ہے۔معلوم ہوا کہ مسلمانوں میں صلح کرانا ایسا ضروری ہے کہ اس کے لیے جھوٹ کی اجازت دی گئی۔