۱؎ یعنی اس سائل یاحاجت مند کی حاجت روائی کے لیے ہم سے سفارش کرو تم کو سفارش کرنے کا ثواب ملے گا۔ معلوم ہوا کہ حاکم سے حق اور اہل حق کی سفارش کرنا ثواب ہے کہ نیکی کرنا،نیکی کرانا،نیکی کا مشورہ دینا سب ہی ثواب ہے باطل کی سفارش گناہ ہے۔فقہاء فرماتے ہیں کہ شرعی حددو میں سفارش حرام ہے اور تعزیرات میں سفارش جائز۔(اشعہ)
۲؎ یعنی اگر ہم تمہاری سفارش کے مطابق فیصلہ کریں تو تمہاری سفارش کی وجہ سے نہ کریں گے بلکہ بہ حکم الٰہی اور اگر سفارش قبول نہ کریں اس کے خلاف فیصلہ کریں تو بھی تمہاری سفارش کی مخالفت سے نہیں بلکہ یہ دونوں عمل بہ حکم الٰہی ہوں گے کیونکہ ہماری زبان پر رب تعالٰی کلام فرماتا ہے ہمارے کام رب کے کام ہیں،ہاں تم کو بہرحال ثواب مل جاوے گا خواہ سفارش قبول ہو یا نہ ہو لہذا تم سفارش قبول نہ ہونے پر ملول نہ ہو اور آئندہ سفارش چھوڑ نہ دو۔