Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
762 - 975
حدیث نمبر 762
روایت ہے حضرت ابوبکر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ کوئی گناہ اس لائق نہیں کہ اس کے مرتکب پر سزا اللہ  دنیا میں بھی بھیجے مع آخرت میں ذخیرہ کرنے کے بمقابلہ بغاوت اور رشتہ توڑنے کے ۱؎ (ترمذی،ابوداؤد)
شرح
۱؎ یعنی تمام گناہوں کی سزا آخرت میں ملے گی کیونکہ دنیا دارالعمل ہے آخرت دارالجزاء مگر دو گناہ ایسے ہیں جن کی سزا دنیا میں بھی مل جاتی ہے اور آخرت میں بھی ملے گی: ایک بغی،دوسرا رشتہ داروں کا حق ادا نہ کرنا ان کی حق تلفی۔بغی کے معنی ظلم بھی ہیں،بادشاہ اسلام پر بغاوت کرنا بھی،تکبروغرور کرنا بھی یہاں تینوں معنی کا احتمال ہے۔(مرقات)دیکھا گیا ہے کہ ماں باپ کو ستانے والا دنیا میں بھی چین سے نہیں رہتا در بدر پھٹکارا پھرتا ہے،ماں باپ کا خدمتگار دنیا میں عیش،چین،عزت پاتا ہے یہ میرا خود اپنا تجربہ ہے۔طبرانی کی روایت میں ہے کہ عزیزوں کی حق تلفی خیانت اور جھوٹ اس لائق ہیں کہ ان کی سزا دونوں جہان میں ملے،رشتے داروں کی خدمت میں وہ نیکی ہے جس کی جزا دونوں جہان میں ملتی ہے حتی کہ بعض لوگ فاسق فاجر ہوتے ہیں مگر رشتہ داروں سے سلوک کی وجہ سے ان کی مال و اولاد میں برکت ہوتی ہے۔(مرقات)یہ بھی تجربہ ہے بعض فساق ماں باپ کی خدمت کی برکت سے بہت پھلتے پھولتے ہیں۔
Flag Counter