Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
754 - 975
حدیث نمبر 754
روایت ہے ابوہریرہ سے ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ میرے قرابت دار ہیں ۱؎  میں ان سے جوڑتا ہوں اوروہ مجھ سے توڑتے ہیں،ان سے بھلائی کرتا ہوں وہ مجھ سے برائی کرتے ہیں،میں ان سے بردباری سے برتتا ہوں ۲؎  وہ مجھ پر جہالت کرتے ہیں تو فرمایا کہ اگر ویسا ہی ہے جیسے کہہ رہا ہے تو تو ان کے منہ میں بھوبل ڈال رہا ہے۳؎ اور تیرے ساتھ اللہ کی طرف سے ان پر مددگار رہے گا جب تک تو اس حال پر رہے ۴؎(مسلم)
شرح
۱؎ یہاں قرابت سے مراد ذی قرابت یعنی رشتہ دار ہیں یہ صاحب ان کی شکایت بارگاہِ رسالت میں کررہے ہیں۔

۲؎  غرضکہ ہر طرح ان کی برائیوں کا بدلہ بھلائی سے دیتاہوں۔یہ دوسروں کی غیبت یا اپنی شیخی مارنا نہیں بلکہ مسئلہ دریافت کرنا ہے۔

۳؎  سف کے معنی ہیں ان کے منہ میں بھرتا ہے،مل میم کے فتح لام کے شد سے بمعنی گرم راکھ جسے اردو میں بھوبل کہتے ہیں اس جملہ کے بہت معنی ہیں: ایک یہ کہ اس حالت میں ان لوگوں کو تیرا مال حرام ہے اور پھر وہ کھارہے ہیں تو گویا اپنے منہ میں بھوبل بھررہے ہیں،دوسرے یہ کہ ان کو ان حالات میں ایسی شرمندگی چاہیے کہ ان کے منہ جھلس جاویں جیسے بھوبل پڑ جانے سے منہ جھلس جاتا ہے،تیسرے یہ کہ ان کی برائیوں کی عوض تیرا ان سے سلوک کرنا گویا ان کے منہ بھوبل سے بھرنا ہے تو انہیں ذلیل کررہا ہے تیری عزت بڑھ رہی ہے،ان کی شرمندگی و ذلت،خیرات سے مال بڑھتا ہے عفو کرم سے عزت بڑھتی ہے۔

۴؎  یعنی جب تک تیرا یہ حلم اور برائی کی عوض بھلائی ہے تب تک اللہ تعالٰی کی طرف سے تجھے مدد پہنچتی رہے گی یا تجھ پر رب کی طرف سے فرشتہ مقرر رہے گا جو تجھے ان کی شر سے بچائے گا اور تیرے عزت و مال میں برکت دے گا۔
Flag Counter