| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت عبداللہ ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ گناہ کبیرہ سے ہے کسی شخص کا اپنے ماں باپ کو گالی دینا ۱؎ صحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ کیا کوئی شخص اپنے ماں باپ کو گالی دیتا ہے فرمایا ہاں ۲؎ یہ کسی کے باپ کو گالی دے تو وہ اس کے باپ کو گالی دے اور یہ کسی کی ماں کی گالی دے تو وہ اس کی ماں کو گالی دے ۳؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ بمعنی اپنے ماں باپ کو یا ان میں سے ایک کو گالی دیتا ہے۔ ۲؎ فرمایا ہاں یہ بات عقل کے خلاف ہے کہ کوئی بیٹا اپنے ماں باپ کو گالی دے سبحان اللہ! وہ زمانہ قدوسیوں کا تھا کہ یہ جرم ان کی عقل میں نہ آتا تھا اب تو کھلم کھلا نالائق لوگ اپنے ماں باپ کو گالیاں دیتے ہیں ذرا شرم نہیں کرتے۔ ۳؎ خیال رہے کہ سبّ ہر قسم کے برا کہنے کو کہتے ہیں گالی ہو یا اور کچھ مگر شتم گالی کو کہا جاتا ہے،کبھی سب بمعنی شتم آتا ہے اور شتم بمعنی سب،کسی سے کہا تیرا باپ احمق ہے یہ ہے سب،کسی سے کہا تیرا باپ زانی ہے حرامی ہے یہ ہے شتم۔مطلب یہ ہے کہ کسی کے بزرگوں کو تم برا نہ کہو تاکہ وہ تمہارے بزرگوں کو برا نہ کہے،یہ ہی حکم اولاد و عزیزوں کے متعلق ہے تم کسی کی بیٹی بہن بھانجی کو گالی نہ دو تاکہ وہ تمہاری بیٹی بہن بھانجی کو گالی نہ دے جیسے کہو گے ویسی سنو گے بہت اعلیٰ اخلاق کی تعلیم ہے کسی نے کیا خوب کہا۔شعر گر ما درخویش دوست داری دشنام مکن بہ مادر من ابن ابی الدنیا میں بروایت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مرفوعًا ہے کہ کسی مسلمان کی آبروریزی کرنا اسے بہتان لگانا گناہ کبیرہ میں سے ہے۔(مرقات)