۱؎ یہ وہی سراقہ ہیں رضی اللہ عنہ جو ہجرت کے موقعہ پر حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی تلاش میں گئے تھے،انہیں کا گھوڑا زمین میں دھنس گیا تھا،یہ کنانی ہیں،بڑے شاعر تھے،دل سے تو وہاں ہی ایمان لے آئے تھے مگر اپنا ایمان فتح مکہ کے دن ظاہر کیا اس لیے آپ کو فتح کے دن کا مؤمن کہا جاتا ہے،مقام قدید میں رہتے تھے،پھر مدنی بن گئے تھے، ۲۴ چوبیس میں وفات پائی۔
۲؎ یعنی اپنی قوم کو ظالموں سے بچانے والا،ان سے لوگوں کے ناجائز طعنے دفع کرنے والا،انکی مدد کرنے والا نہ متعصب ہے نہ گنہگار بلکہ ثواب کا مستحق ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰی حَقَّہٗ"ہاں گناہ پر ان کی مددکرنے والا گنہگاربھی ہے متعصب بھی،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَلَا تَعَاوَنُوۡا عَلَی الۡاِثْمِ وَالْعُدْوٰنِ"۔