| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے انہی سے کہ ایک شخص دیہاتیوں میں سے ان کا نام زاہر ابن حرام تھا ۱؎ وہ گاؤں سے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے ہدیہ لاتے تھے ۲؎ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم انہیں سامان دیتے تھے جب وہ جانا چاہتے ۳؎ فرمایا نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ زاہر ہمارے دیہاتی بھائی ہیں اور ہم زاہر کے شہری ہیں۴؎ اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم ان سے محبت کرتے تھے وہ خوبصورت نہ تھے ۵؎ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و سلم تشریف لائے زاہر اپنا سامان بیچ رہے تھے حضور نے ان کو پیچھے سے گود میں لے لیا ۶؎ وہ حضور کو نہ دیکھتے تھے بولے یہ کون ہیں مجھے چھوڑ دو انہوں نے التفات کیا تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو پہچان لیا ۷؎ تو انہوں نے کمی نہیں کی اپنی پیٹھ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے سینہ سے رگڑنے لگے جب کہ حضورکو پہچان لیا ۸؎ اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم فرمانے لگے اس غلام کو کون خریدتا ہے ۹؎ وہ بولے تب تو رب کی قسم آپ مجھے بے قیمت پائیں گے۱۰؎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا لیکن تم اللہ کے نزدیک بے قیمت نہیں ہو ۱۱؎ (شرح سنہ )
شرح
۱؎ ان خوش نصیب صحابی کے حالات معلوم نہ ہوسکے حتی کہ صاحب مشکوۃ نے اپنی کتاب اکمال میں بھی بیان نہیں کیے کیونکہ یہ صحابی کسی حدیث کے راوی نہیں۔ ۲؎ یعنی دیہاتی چیزیں پھل پھلاری،کھیت کی پیداوار وغیرہ حضور انور کے لیے تحفہ ہی لایا کرتے تھے۔ ۳؎ یعنی جب زاہر مدینہ منورہ سے واپس جانے لگتے تو حضور صلی اللہ علیہ و سلم شہری چیزیں بطور ہدیہ و سوغات ان کو دیتے کہ وہ اپنے بچوں کے لیے گھر لے جائیں۔ ۴؎ یعنی زاہر ہماری دیہاتی ضرورتیں پوری کرتے رہتے ہیں اور ہم زاہر کی شہری ضروریات پوری کرتے رہتے ہیں گویا زاہر ہمارا گاؤں ہیں اور ہم زاہر کا شہر یہ اخلاق کریمانہ ہیں کہ اپنے غلاموں نیاز مندوں کو ان القاب سے نوازتے ہیں۔ ۵؎ حضور صلی اللہ علیہ و سلم ان سے بہت ہی محبت فرماتے تھے اگرچہ وہ ویسے ہی تھے جیسے حبشی لوگ خصوصًا دیہاتی ہوتے ہیں شکل و لباس دیہات کا سا۔دمیم کے معنی ہوتے ہیں بدشکل۔(مرقات)مگر اس کی شکل پر ہزاروں خوبصورت قربان جسے پیا چاہے وہ سہاگن ۶؎ اس طرح کہ حضور انور ان کے پیچھے بیٹھے انہیں پیچھے سے اپنی گود میں لے لیا ان کی بغلوں میں سے ہاتھ ڈال کر اپنا ہاتھ شریف زاہر کی آنکھوں پر رکھ لیا یعنی پہچانو ہم کون ہیں۔کاش! میں اس وقت زاہر کے پاس ہوتا تو اس کے قدم سے اپنی آنکھیں ملتا۔رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ واقعہ بیچ بازار میں ہورہا ہے۔ ۷؎ حضرت زاہر پہچان تو پہلے ہی گئے ہوں گےبھلا حضور کی خوشبو مہک کسی اور میں کہا۔مقصد یہ ہے کہ جب انہوں نے حضور کو آنکھوں دیکھ لیا بذریعہ کنکھیوں کے لہذا اس حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے جسم اطہر میں ایسی خوشبو تھی کہ جس گلی سے گزرتے وہاں کے گھروں میں بیٹھے ہوئے لوگ پہچان جاتے تھے کہ حضور گزرے۔شعر آمدی از پس ببازی چشم پوشیدی مرا اے نگاہ دست رنگین دست بکشا کیتی ۸؎ حضرت زاہر نے یہ موقعہ غنیمت جانا کہ خود حضور انور نے مجھے اپنی گود میں لے لیا ہے اور اپنا سینہ میری پشت سے متصل کردیا ہے ایسے موقعہ بار بار ہاتھ نہیں آتے اس لیے اپنی پشت کو حضور کے سینہ انور سے خوب مس کیا برکت حاصل کرنے کے لیے۔معلوم ہوا کہ اپنے خدام سے خوش طبعی کرنا سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے ثابت ہے اور برکت کے لیے بزرگوں کا جسم ان کے کپڑے چھونے سنت صحابہ ہے۔ ۹؎ یہ کلام بالکل حق ہے۔عبد سے مراد ہے عبداللہ،خریدنے سے مراد ہے اس کے عوض دوسرا لانا یعنی کون ہے جو اس جیسا اللہ کا بندہ مجھے دکھائے یا اشتراء میں تجرید ہے لہذا بمعنی یاخذ ہے یعنی اس اللہ کے بندے کو کون لیتا ہے مجھے سے۔(مرقات) ۱۰؎ یعنی مجھ میں نہ شکل نہ عقل نہ رنگ نہ ڈھنگ مجھے کون قبول کرے گا ایسوں کو کون لیتا ہے میں آپ کا کیسے ہو سکتا ہوں۔ ۱۱؎ جو حضور کا ہو جاوے وہ بے قیمت کیسے ہوسکتا ہے انکی قیمت سارا جہان نہیں ہوسکتا۔مدینہ منورہ میں ایک صاحب تھے بازار میں جو نئی چیز دیکھتے حضور انور کی خدمت میں ہدیہ لے آتے تھے جب چیز کا مالک قیمت مانگتا ہے تو اسے بھی حضور کے پاس لے آتے،عرض کرتے حضور فلاں دن جو حضور کے پاس فلاں چیز میں نے حاضر کی تھی اس کی قیمت حضور اسے دے دیں یہ تقاضا کررہا ہے،حضور تبسم فرماکر فرماتے کہ تم نے تو وہ چیز ہم کو ہدیۃً دی تھی،عرض کرتے حضور میری پاس اس کی قیمت کہاں سے آئی حضور قیمت ادا فرماتے مگر ان سے کچھ نہ کہتے۔(مرقات)