Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
70 - 975
حدیث نمبر 70
روایت ہے حضرت ام ہانی سے ۱؎  فرماتی ہیں کہ میرے پا س نبی صلی اللہ علیہ و سلم تشریف لائے تو فرمایا کیا تمہارے پاس کچھ ہے میں نے کہا نہیں سوا خشک روٹی اور سرکہ کے ۲؎  تو فرمایا لاؤ ۳؎  وہ گھر سالن سے خالی نہیں جس میں سرکہ ہو۴؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث حسن بھی ہے غریب بھی۔
شرح
۱؎ آپ کا نام فاختہ یا ہند ہے،ابو طالب کی بیٹی حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بہن ہیں،زمانہ جاہلیت میں آپ کا نکاح ہبیرہ ابن وہب سے ہوا،آپ مسلمان ہوگئیں، ہبیرہ نے اسلام قبول نہ کیا اس لیے علیحدگی کردی گئی۔حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے آپ کو نکاح کا پیغام دیا مگر آپ نے یہ معذرت کی کہ میں بہت بچوں والی بی بی ہوں حضورصلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت کما حقہ نہ کرسکوں گی حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو مجھ سے بجائے آرام کے تکلیف ہوگی،آپ بہت احادیث کی راویہ ہیں۔

۲؎  یعنی یہ دو حقیر سی چیزیں میرے پاس ہیں جو آپ کی خدمت میں پیش کرنے کے لائق نہیں۔یابس سے مراد ہے سوکھی ہوئی روٹی چند روز کی ہوجس کا چبانا مشکل ہو۔

۳؎ ہمراہ ہی کھائیں گے۔ 

بوریا ممنون خواب را حتش	تاج کسریٰ زیر  پائے  امتش

۴؎ قفر کے معنی ہیں خالی ہونا اس لیے چٹیل میدان کا قفار کہتے ہیں جو سبزہ سے خالی ہو۔اس سے معلوم ہوا کہ آدمی اعلیٰ درجہ پر پہنچ کر بھی معمولی غذاؤں سے نفرت نہ کرے اپنی عادت سیدھی سادی رکھے سادہ زندگی گزارنے کا عادی رہے۔
Flag Counter