Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
691 - 975
حدیث نمبر 691
روایت ہے حضرت جندب سے فرماتے ہیں کہ ایک بدوی آیا اس نے اپنا اونٹ بٹھادیا ۱؎ پھر اسے باندھ دیا پھر مسجد میں آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پیچھے نما ز پڑھی پھر جب سلام پھیرا تو اپنی سواری کے پاس گیا اسے کھولا اس پر سوار ہوا پھر پکار الٰہی مجھ پر اور محمد پر رحم فرما اور ہماری رحمت میں کسی اور کو شریک نہ کر ۲؎ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کیا کہتے ہو یہ زیادہ بے وقوف ہے یا اس کا اونٹ۳؎  کہ کیا تم نے نہ سنا جو اس نے کہا لوگ بولے ہاں۴؎(ابوداؤ د)اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کفی بالمرء کذبا ہم نے باب الاعتصام کی پہلی فصل میں ذکر کردی۔
شرح
۱؎ اعرابی یعنی بدوی حضرات اپنے گاؤ ں میں عمومًا رہتے تھے اتفاقًا کبھی شہر میں کسی کام کے لیے آجاتے تھے وہ آداب سے کم واقف ہوتے تھے۔

۲؎  وہ اپنی غلطی سے اس دعا کو بہت اچھا سمجھے اور حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو خوش کرنے کے لیے یہ کہا اس لیے آواز سے کہا کہ حضور انور سن لیں اور خوش ہوجاویں یعنی مجھ پر اور حضور صلی اللہ علیہ و سلم پر ایسی خاص رحمت کر جوکسی پر نہ ہو۔

۳؎  یہاں ضلات سے مراد گمراہی یا بدعقیدگی نہیں بلکہ بے وقوفی و جہالت ہے کیونکہ اس نے وسیع رحمت کو تنگ کرنے کی دعا کی یا اس نے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی رحمت خاصہ میں اپنے کو شریک کیا اس میں بے ادبی ہے اور بظاہر دعویٰ مساوات ہے۔(لمعات)

۴؎ اس سے معلوم ہوا کہ دعا صرف اپنے واسطے نہیں کرنا چاہیے بلکہ عام صیغوں سے کی جاوے خصوصًا یہ کہنا کہ اور کسی پر رحم نہ کر یہ تو بہت ہی برا ہے۔یہ بھی معلوم ہوا کہ کسی کا ظاہر ظہور عیب اس کی پس پشت بیان کرنا غیبت نہیں کہ حضور انور نے اس کی جہالت صحابہ سے بیان فرمائی جب کہ وہ سن نہ رہا تھا اس لیے یہ حدیث اس باب میں لائی گئی۔
Flag Counter