روایت ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے کہ جو جھوٹ چھوڑ دے جو کہ باطل چیز ہے ۱؎ تو اس کے لیے جنت کے کنارہ میں گھر بنایا جائے گا۲؎ اور جو لڑائی جھگڑے چھوڑ دے حالانکہ حق پر ہو اس کیلئے بیچ جنت میں گھر بنایا جاوے گا۳؎ اور جس کے اخلاق اچھے ہوں تو اس کے لیے جنت کے اوپری حصہ میں گھر بنایا جاوے گا ۴؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث حسن ہے یونہی شرح سنہ میں ہے مصابیح میں فرمایا غریب ہے ۵؎
شرح
۱؎ وھو باطل یا تو جملہ معترضہ ہے جو جھوٹ سے نفرت دلانے کے لیے ارشاد ہوا یعنی جھوٹ ہے ہی باطل چیز اسے چھوڑنا ہی چاہیے یا یہ جملہ حالیہ ہے تو معنی یہ ہوں گے جو جھوٹ باطل ہے وہ چھوڑ دے اور جو جھوٹ مفید ہے اس کے چھوڑنے کی ضرورت نہیں جیسے دو لڑے مسلمانوں میں صلح کرانے کے لیے جھوٹ بولنا یا نیک بندے کا اپنے کو گنہگار کہنا توبہ کرنا وغیرہ جیساکہ ہم پہلے عرض کرچکے ہیں۔(ازمرقات و اشعہ) ۲؎ یعنی جنت کا ادنی درجہ کیونکہ کنارہ ادنی ہوتا ہے درمیان اعلیٰ مگر کنارہ سے مراد جنت کا اندرونی کنارہ ہے نہ کہ بیرونی جنت۔ ۳؎ یعنی جو کوئی لڑائی جھگڑا سے بچنے کے لیے اپنا حق بھی ظاہر نہ کرے یعنی حق پر ہو مگر اس پر لڑے نہیں اس کا گھر جنت یعنی جنت کے اعلیٰ درجہ میں ہوگا۔یہاں حق سے مراد دنیاوی حقوق ہیں نہ کہ دینی حقوق اگر کسی مسلمان نے کسی کی زمین یا قرض مار لیا یہ لڑائی سے بچنے کے لیے پیچھے نہ پڑا صبر کر کے بیٹھ گیا بڑے درجے والا ہے مگر جو دین حق کو بربادکرنا چاہے اس کا مقابلہ بقدر طاقت زبان قلم تلوار سے ضرور کرے۔ ۴؎ سبحان اللہ! خوش خلقی کا درجہ سب سے اعلیٰ ہے کہ اس سے جنت الفردوس نصیب ہوتی ہے مگر حسن خلق کے لیے کوشش بھی کرے رب سے دعا بھی۔ ۵؎ لغوی حسن غریب کے خلاف نہیں لہذا یہ حدیث حسن بھی ہے غریب بھی۔(مرقات)