Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
665 - 975
حدیث نمبر 665
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے میری ساری امت کو عافیت دی جاوے گی ۱؎ سوا اعلانیہ گناہ کرنے والوں کے ۲؎ اور اعلانیہ سے یہ بھی ہے۳؎  کہ کوئی شخص رات میں کوئی کام کرے پھر صبح پائے کہ اللہ نے اس کا پردہ رکھ لیا مگر وہ کہے اے فلاں میں نے آج رات ایسا ایسا کیا۴؎  حالانکہ رات میں اس کے رب نے اسے چھپا لیا وہ صبح کو اللہ  کا پردہ خود ہی کھولنے لگا ۵؎ (مسلم،بخاری)اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث(جو اللہ پر ایمان رکھتا ہو) دعوت کے باب میں ذکر کردی گئی ۶؎
شرح
۱؎ معافی کے دو معنی ہوسکتے ہیں: ایک یہ کہ عفو سے یعنی رب تعالٰی کی طرف سے معافی دی جاوے گی۔ دوسرے یہ کہ عافیت سے ہو یعنی اسے عافیت دی ہوئی ہے اس کی غیبت حرام ہے۔

۲؎ یعنی علانیہ گناہ کرنے والوں کی نہ آخرت میں پردہ پوشی کی جاوے گی نہ دنیا میں،ان کی غیبت حرام ہوگی ان کی غیبت جائز ہے کہ وہ خود ہی اپنے پردہ دار نہیں۔

۳؎  مجانہ کے معنی اعلان بھی ہیں اور بے پرواہ بھی یہاں دونوں معنی درست ہیں۔

۴؎  یعنی اپنے چھپے گناہ خود ہی لوگوں پر ظاہر کرے اللہ تعالٰی کی ستاری سے فائدہ ا ٹھاکر خفیہ توبہ نہ کرے۔

۵؎ اس بناء پر فقہاء فرماتے ہیں کہ چھپے گناہ کی چھپ کر توبہ کرے اعلان نہ کرے توبہ کے اعلان میں گناہ کا بھی اعلان ہوگا۔یہ حکم حقوق عباد اور بعض شرعی سزاؤ ں کے علاوہ دیگر جرموں کے لیے ہے۔اگر کسی کا حق ہم نے مار لیا اسے خبر نہ ہوئی تو ضرور اسے خبر دے اور حق ادا کرے،اگر خفیہ زنا کرایا ہے تو قاضی کے پاس اقرار کرکے سزا لے جیسے حضرت ماعز نے کہا تھا لہذا حدیث واضح ہے۔

۶؎  یعنی وہ حدیث کہ جو اللہ تعالٰی اور قیامت پر ایمان رکھتا ہو وہ یا اچھی بات کہے ورنہ خاموش رہے مصابیح میں اس جگہ تھی ہم نے مناسبت کا لحاظ رکھتے ہوئے دعوت کے باب میں ذکر فرمادی،صاحب مشکوۃ نے رد و بدل بہت جگہ کیا۔
Flag Counter