| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے فرمایا کیا جانتے ہو غیبت کیا ہے ۱؎ سب نے عرض کیا اللہ رسول ہی خوب جانیں فرمایا تمہارا اپنے بھائی کا ناپسندیدہ ذکر کرنا ۲؎ عرض کیا گیا فرمایئے تو اگر میرے بھائی میں وہ عیب ہو جو میں کہتا ہوں ۳؎ فرمایا اگر اس میں وہ ہو جو کہتا ہے تو تو نے اس کی غیبت کی اور اگر اس میں وہ نہ ہو جو تو کہتا ہے تو تونے اسے بہتان لگایا ۴؎(مسلم)اور ایک روایت میں ہے ۵؎ کہ جب تو اپنے بھائی کا وہ عیب بیان کرے جو اس میں ہے تو تو نے اس کی غیبت کی اور اگر تو وہ کہے جو اس نے نہ کیا ہو تو تو نے اسے بہتان لگایا ۶؎
شرح
۱؎ یعنی قرآن مجید میں ہے"لَایَغْتَبۡ بَّعْضُکُمۡ بَعْضًا"یعنی بعض مسلمان بعض کی غیبت نہ کریں،کیا جانتے ہو غیبت کیا ہے اور اس کی تفسیر کیا ہے۔ ۲؎ یعنی کسی کے خفیہ عیب اس کے پس پشت بیان کرنا عیب خواہ جسمانی ہوں یا نفسانی دنیاوی یا دینی یا اس کی اولاد کے یا بیوی کے یا گھر کے خواہ زبان سے بیان کرو یا قلم سے یا اشارے سے،غرض کسی طرح سے لوگوں کو سمجھادو حتی کہ کسی لنگڑے یا ہکلے کی پس پشت نقل کرنا،لنگڑاکر چلنا یا ہکلاکر بولنا سب کچھ غیبت ہے یہ فرمان بہت وسیع ہے۔(مرقات) ۳؎ سائل غیبت اور بہتان میں فرق نہ کرسکے وہ سمجھے کہ کسی کو جھوٹا بہتان لگانا غیبت ہے اس لیے انہوں نے یہ سوال کیا،وہ مایکرہ کے لفظ سے دھوکہ کھاگئے۔ ۴؎ سبحان اللہ! کیا نفیس جواب ہے کہ غیبت سچے عیب بیان کرنے کو کہتے ہیں اور بہتان جھوٹے عیب بیان کرنے کو۔غیبت ہوتا ہے سچ مگر ہے حرام،اکثر گالیاں سچی ہوتی ہیں مگر ہیں بے حیائی و حرام ہر سچ حلال نہیں ہوتا،خلاصہ یہ ہے کہ غیبت ایک گناہ ہے بہتان دو گناہ۔ ۵؎ یہ روایت مسلم میں نہیں بلکہ امام بغوی نے شرح سنہ میں نقل فرمائی مگر مؤلف کے فی روایۃ کہنے سے دھوکا پڑتا ہے کہ یہ بھی مسلم ہی کی روایت ہے۔(مرقات) ۶؎ غیبت و بہتان کا یہ فرق ضرور خیال رہے بہتان بہرحال برا ہے غیبت کبھی بری کبھی بری نہیں جیساکہ ہم شروع باب میں عرض کرچکے کہ غیبت کے حرام ہونے کی چند شرطیں ہیں: کسی خاص کی ہوں وہ خاص شخص مسلمان ہو،وہ عیب بھی اس کا خفیہ ہو اور بیان بھی کرے بلا ضرورت۔رہا بہتان وہ بہرحال حرام ہے خواہ کسی کو لگائے کسی طرح لگائے۔