Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
662 - 975
حدیث نمبر 662
روایت ہے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ کسی شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں کسی کی تعریف کی ۱؎  تو فرمایا تیری خرابی تو نے اپنے بھائی کی گردن کاٹ دی تین بار فرمایا ۲؎ تم میں سے جوکسی کی ضرور تعریف ہی کرے تو ہے کہ میں فلاں کو ایسا سمجھتا ہوں اللہ تعالٰی اس پر مطلع ہے بشرطیہ وہ اسے ایسا ہی جانتا ہو۳؎  اللہ پر کسی کی صفائی بیان نہ کرے ۴؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ یعنی بہت زیادہ تعریف کی بہت مبالغہ سے،غالبًا وہ شخص وہاں موجود ہوگا جیساکہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے دیکھو مرقات۔

۲؎  یعنی وہ شخص ایسی طبیعت کا ہے کہ تیری تعریف سن کر مغرور و متکبر ہوجاوے گا ایسے شخص کی منہ پر تعریف اسے نقصان دیتی ہے۔خیال رہے کہ بعض لوگ اپنی تعریف سن کر اور زیادہ نیکیاں کرنے لگتے ہیں اور بعض لوگ غرور میں آجاتے ہیں پہلے قسم کے لوگوں کے منہ پر تعریف کرنا مفید ہے،دوسرے لوگوں کے لیے نقصان دہ یہاں دوسری صورت کا ذکر ہے۔

۳؎  یعنی کسی کی تعریف کرنے کی دو شرطیں ہیں: ایک یہ کہ یقین کے ساتھ تعریف نہ کرے کہ وہ ایسا ہی ہے بلکہ اپنے خیال کا اظہار کرے۔دوسرے یہ کہ جو سمجھتا ہو وہ ہی کہے اگر واقعی اسے اچھا سمجھتا ہے تو اچھا کہے دل میں برا جاننا منہ سے اچھا کہنا جھوٹ بھی ہے اور خوشامد بھی۔

۴؎  یعنی واقعہ کی گواہی نہ دے کہ واللہ  وہ بہت ہی اچھا ہے مگر یہ تمام شرائط اس کے متعلق ہیں جس کی برائی بھلائی نص سے ثابت نہ ہو۔حضرات انبیاءخصوصًا حضور محمد صلی اللہ علیہ و سلم ان کے آل و اصحاب کی تعریفیں کامل یقین سے کرے اور خوب کرے مثلًا میں کہہ سکتا ہوں کہ قسم رب تعالٰی کی حضور صلی اللہ علیہ و سلم اور تمام صحابہ اللہ کے پیارے بندے ہیں،یوں ہی وہ حضرات جنہیں مخلوق ولی اللہ کہتی ہے انہیں ہم یقین سے ولی کہہ سکتے ہیں کہ مخلوق کی زبان خالق کا قلم ہے لہذا یہ حدیث نہ تو آیت قرآنیہ کے خلاف ہے نہ دوسری احادیث کے،حضور فرماتے ہیں انتم شہداء اللہ فی الارض۔
Flag Counter