۱؎ یعنی جو مسلمان دوسرے مسلمان کو کافر کہے اگر وہ مسلمان واقعی کوئی کفریہ کام یا کفریہ کلام کرچکا ہے تب تو یہ کفر اس پر پڑے گا لیکن اگر اس میں کوئی کفر نہ ہو تو یہ کہنے والا کافر ہوجاوے گا جب کہ کسی قطعی ایمان والے کو کافر کہے جیسے صحابہ کرام کو خصوصًا مبشرین الجنۃ کو کافر کہنے والا یقینًا کافر ہے کہ قرآن حدیث تو انہیں مؤمن کہہ ر ہے ہیں اور یہ انہیں کافر کہتا ہے تو قرآن و حدیث کا منکر ہے یا کسی عقیدہ اسلامیہ کی بنا پر کافر کہتا ہے تو بھی یہ کہنے والا کافر ہے،اس سے وہ شخص مراد نہیں جو کسی کو گالی کے طور پر کافر کہے یا کافر کے معنی ناشکرا یا چھپانے والاکرے لہذا حدیث واضح ہے حضرت خسرو فرماتے ہیں
کافر عشقم مسلمانی مرا درکار نیست ہررگ من تارگشتہ حاجت نار نیست
یہاں کافر عشق سے مراد ہےعشق کا چھپانے والا اسے دل میں رکھنے والا،رب تعالٰی فرماتاہے:"فَمَنْ یَّکْفُرْ بِالطّٰغُوۡتِ وَیُؤْمِنۡۢ بِاللہِ"جو کوئی بتوں کو انکارکرے اللہ پر ایمان لائے۔یہاں کفر بمعنی انکار ہے لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں۔امام نووی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث بہت مشکل ہے،فقیر نے جو توجیہ کی ہے ان شاءاللہ اس سے اشکال نہ رہا۔