روایت ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرماتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم جناب حسان کے لیے مسجد میں منبر رکھتے تھے جس پر وہ سیدھے کھڑے ہوں ۱؎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے فخر کرتے تھے یا دفع فرماتے تھے ۲؎ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے تھے کہ اللہ بذریعہ جبریل حضرت حسان کی مدد فرماتا ہے جب تک کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے فخر کرتے ہیں یا دفع کرتے رہتے ہیں۳؎(بخاری)
شرح
۱؎ حضور کی نعت شریف پڑھنے کے لیے یا مشرکین عرب کی ہجو کرنے کے لیے۔سبحان اللہ! کیا تقدیر ہے حضرت حسان کی کہ حضور انور کی مجلس مبارک میں مسجد نبوی شریف میں آپ کو منبر عطا ہو رہا ہے نعت خوانی نعت گوئی اللہ کی رحمت ہے بشرطیکہ مقبول ہو۔ ۲؎ یعنی حضور کی تشریف آوری اور خود اپنے کو حضور کی اتباع نصیب ہونے پر فخر کرتے تھے۔شعر انسانیت کو فخر ہے تیری ذات سے بے نور تھا خرد کا ستارہ تیرے بغیر یا مشرکین سے حضور کا بدلہ لیتے تھے کہ ان کی ہجو کرتے تھے حضور انور کے فضائل بیان فرماتے تھے،آپ خود سنتے اور لوگوں کو سننے کا حکم دیتے تھے حضرت حسان کو دعائیں دیتے تھے۔ ۳؎ یعنی میں دیکھتا ہوں کہ جب تک جناب حسان ہماری نعت خوانی کفار کی ہجو کرتے ہیں ان کے سر پر حضرت جبریل علیہ السلام کا ہاتھ ہوتا ہے اس ہاتھ کے اثر سے انکے دل میں اچھے مضامین پیدا ہوتے ہیں اچھے الفاظ سمجھ میں آتے ہیں اچھی طرح اخلاص کے ساتھ ادا ہوتے ہیں یہ سب کچھ حضرت جبریل کی مدد کا نتیجہ ہے۔خیال رہے کہ دوست چند نوعیتوں کے ہوتے ہیں: اپنا دوست وہ دوست،اپنے دوست کا دوست وہ دوست،دشمن کا دشمن وہ دوست۔یوں ہی دشمن چند قسم کے ہیں: اپنا دشمن،اپنے دشمن کا دوست،اپنے دشمن کا دشمن۔حضرت حسان حضور کے دوست حضور کے دوستوں کے دوست اور حضور کے دشمنوں کے دشمن تھے لہذا آپ تینوں قسم کے دوست تھے اس لیے آپ کا یہ درجہ ہوا،چونکہ حضرت جبریل انبیاءکرام پر وحی لاتے رہے اور وحی روح ہے لہذا آپ کا نام روح ہوا،قدس رب تعالیٰ کا نام شریف ہے تو معنی ہوئے کہ رب تعالیٰ کی روح یعنی اس کی پسندیدہ روح۔