| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے ابو ثعلبہ خشنی سے ۱؎ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ تم میں سے مجھے سب سے پیارا اور قیامت کے دن مجھ سے بہت قریب تم میں سے اچھے اخلاق والا ہے ۲؎ اور تم میں سے مجھ کو بہت ناپسند اور مجھ سے بہت دور برے اخلاق والے ہیں۳؎ جو زیادہ بولنے و الے منہ پھٹ فراخ گو متکبر ۴؎(بیہقی شعب الایمان)
شرح
۱؎ آپ کا نام جرہم ابن ناشب ہے،قبیلہ خشن سے ہیں،اس قبیلہ کے مورث کا نام خشن ابن نمر تھا،جرہم اپنی کنیت میں زیادہ مشہور ہے یعنی ابو ثعلبہ،آپ بیعت الرضوان میں شریک تھے،حضور انور نے آپ کو خیبر کی غنیمت سے حصہ دیا،آپ کی تبلیغ پر آپ کی قوم ایمان لائی، ۷۵ھ میں وفات پائی،بعض نے فرمایا کہ امیر معاویہ کے زمانہ میں فوت ہوئے۔(اشعہ) ۲؎ کیونکہ خوش خلق آدمی اکثر نیک اعمال زیادہ کرتا ہے گناہ اس سے کم سرزد ہوتے ہیں۔اخلاق سے مراد اخلاق محمدی ہیں کفار پر سخت،مؤمنوں پر بہت ہی نرم ،دیانتداری،وعدہ پورا کرنا،معاملات کا درست ہونا سب ہی خوش خلقی میں داخل ہیں۔خیال رہے کہ خوش خلقی،خوشامد میں فرق ہے،یوں بدخلقی اور استغناء میں فرق ہے۔ ۳؎ کیونکہ بدخلق اکثر بدعمل ہوتے ہیں بدخلقی خود بھی بدعملی ہے اور بہت سے بدعملیوں کا ذریعہ۔جھوٹ، خیانت،وعدہ خلافی،بدمعاملگی سب ہی بد اخلاقی کی شاخیں ہیں۔ ۴؎ ثرثارون بنا ہے ثرثرۃ سے بمعنی کثرت کلام یا ایک بات کو بار بار کہنا۔متشدقون بنا ہے شدق سے بمعنی منہ کا جبڑا۔متشدق وہ ہے جو منہ بھر کر باتیں کرے یا جس کے جبڑے باتوں کے لیے کھلے رہیں اور متفیہقون بنا ہے فھق سے بمعنی وسعت و فراخی یعنی بہت ہی کلام کرنے والا جسے اردو میں کہتے ہیں بکّی،فارسی میں کہتے ہیں بسیارگو۔ایک شاعر کہتا ہے گفتہ گفتہ من شدم بسیار گو از شمایک مونہ شد اسرار جو