روایت ہے حضرت کعب ابن مالک سے ۱؎ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے شعر کے بارے میں جو آیات نازل کیں وہ کیں ۲؎ تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ مؤمن اپنی تلوار اپنی زبان سے جہاد کرتا ہے۳؎ اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے تم اسی شعر سے ان کفار کو تیر کے مارنے کی طرح مارتے ہو ۴؎(شرح سنہ)اور استیعاب عبدالبر میں ہے کہ انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ حضور شعر کے متعلق کیا فرماتے ہیں تو فرمایا کہ مؤمن اپنی تلوار اور زبان سے جہاد کرتا ہے ۵؎
شرح
۱؎ آپ مشہور صحابی ہیں جن کے متلق سورۂ توبہ کی آیات توبہ نازل ہوئیں،شعراء اسلام میں بڑے پایہ کے شاعر ہیں۔حضور انور کے تین شاعر تھے: حسان ابن ثابت،عبداللہ ابن رواحہ،کعب ابن مالک،حضرت حسان کفار پر لعن طعن کے اشعار لکھتے تھے،عبداللہ ابن رواحہ ان کے کفر و شرک کی برائیاں بیان کرتے تھے اور حضرت کعب ابن مالک کفار کو جنگ سے ڈراتے تھے۔(اشعہ،مرقات)حضرت کعب انصاری خزرجی ہیں، ۵۰ میں وفات پائی،آپ کی عمر پچھتر سال ہوئی۔ ۲؎ یعنی اللہ تعالیٰ نے شعروشعراء کی بہت برائیاں قرآن کریم میں بیان فرمائی ہیں اور میں حضور کا شاعر ہوں تو کیا میں اور میرے اشعار بھی اس کی زد میں آجاتے ہیں اور کیا میں آئندہ شعر گوئی سے توبہ کرلوں اس سوال میں آیت کریمہ"الشُّعَرَآءُ یَتَّبِعُہُمُ الْغَاوٗنَ"کی طرف اشارہ ہے۔ ۳؎ یعنی تمہارے اشعار اس آیت کی زد میں نہیں آتے وہاں برے شعر کہنے والے شعراء مراد ہیں تم تو مجاہد ہو تمہاری شعر گوئی جہاد ہے اور تمہارے اشعار کفار کو مارتے تیروتلوار اس لیے رب تعالیٰ نے وہاں اس آیت کے متصل ہی فرمایا"اِلَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا"زمانہ جاہلیت میں فحش گوئی شراب و حسین عورتوں کی تعریف میں شعر گوئی کا عام رواج تھا اسے قرآن کریم نے برا کہا۔ ۴؎ سبحان اللہ! کیا پیارا جواب ہے یعنی مجاہد مسلمان تلوار سے بھی جہادکرتا ہے اور اشعار سے بھی،تلوار کفار ناہنجار کے اجسام نابکار کو زخمی کرتی ہے اور تمہارے اشعار ان کے دلوں کو چھلنی کرتے ہیں تم ان اشعار میں ثواب پاتے ہو اب بھی جہاد کے موقعہ پر قصیدے مجاہدوں کو گرما دیتے ہیں۔ ۵؎ یہ حدیث صحیح ہے مسلم،بخاری کی شرط پر ہے۔(مرقات)