۱؎ عربی میں خبث اور نفس ہم معنی ہیں بمعنی پریشان برائی مگر خبث فساد عقیدہ پربھی بولا جاتا ہے کفر بیدینی خباثت ہے لہذا اپنے لیے یہ لفظ مشترک استعمال نہ کرو کہ اس میں ایک معنی سے اپنے کفر یا بے دینی کا اقرار ہے بلکہ بجائے خبیث کی لقست کہو گویا جس کے لفظ کے دو معنی ہوں اچھے و برے ایسے لفظ کو اپنے لیے نہ بولو۔وہ جو حدیث شریف میں ہے کہ جو صبح کو پڑا سوتا رہتا ہےو ہ خبیث النفس کسلان اٹھتا ہے وہاں اپنے کو یا کسی خاص شخص کو خبیث نہیں کہا گیا بلکہ ایک قاعدہ کلیہ بیان ہوا،کسی معین مسلمان پرلعنت کرنا حرام ہے مگر یہ کہہ سکتے ہیں کہ جھوٹے پر لعنت۔
۲؎ یعنی مصابیح میں وہ حدیث یہاں تھی ہم نے مناسبت کے لحاظ سے کتاب الایمان میں بیان کردی ہے وہاں دیکھو۔