۱؎ اہل عرب ہر مصیبت کو زمانہ کی طرف سے سمجھتے تھے اس لیے مصیبت پڑنے پر زمانہ کی شکایات کرتے بلکہ زمانہ کو گالیاں دیتے تھے انکے محاورہ کے الفاظ میں اسے یہ لفظ بھی یا خیبۃ الدھر ہائے زمانہ کی محرومی اور زمانہ کا نقصان و خسارہ ہم کو اس سے منع فرمایا گیا۔
۲؎ اس جملہ کی شرح کتاب الایمان میں گزرگئی اس جملہ کے معنی ہیں کہ اللہ تعالٰی ہی زمانہ کو پھیرنے والا ہے۔زمانہ کو برا کہنا در پردہ رب تعالٰی کی شان میں گستاخی کرنا ہے،ہمارے ہاں بھی یہ بیماری ہے عوام کاذکر کیا بعض پڑھے لکھے لوگ زمانہ کو برا کہتے ہیں۔چنانچہ مولوی محمود حسن صاحب دیوبندی نے اپنے بزرگ رشید احمد صاحب گنگوہی کا مرثیہ لکھا تو اس میں زمانہ کو بڑی جلی کٹی سنائیں وہ مرثیہ گنگوہی دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ لوگ کیسے ہیں اپنے بزرگوں کو نبیوں سے بڑھا دیتے ہیں۔