| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت جابر ابن سمرہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نہ اٹھتے تھے اپنے اس مصلے سے جس میں فجر کی نماز پڑھتے حتی کہ سورج طلوع ہوجاتا پھر جب سورج طلوع ہوجاتا تو اٹھتے اور لوگ باتیں کرتے تھے تو جاہلیت کے زمانہ کے کاموں کے ذکر میں مشغول ہوجاتے تو ہنستے تھے اورنبی صلی اللہ علیہ و سلم مسکراتے تھے ۱؎(مسلم)اور ترمذی کی روایت میں ہے کہ وہ حضرات اشعار پڑھتے تھے۔
شرح
۱؎ اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ نماز فجر کے بعد اشراق تک مصلے پر بیٹھا رہنا سنت ہے۔دوسرے یہ کہ اس و قت تلاوت قرآن کرنا بہتر نہیں،جن اوقات میں سجدہ حرام ہے ان اوقات میں تلاوت قرآن افضل نہیں کہ اس وقت سجدۂ تلاوت نہ کرسکے گا۔تیسرے یہ کہ نفلی معتکف کو مسجد میں دنیاوی باتیں کرنا جائز ہے یہ حضرات بہ نیت اعتکاف وہاں بیٹھتے تھے۔چوتھے یہ کہ مسجد میں جائز اشعار پڑھنا جائز بلکہ نعت شریف پڑھنا سنت صحابہ ہے۔پانچویں یہ کہ آخرت کی چیزیں کوئی اپنی عقل سے معلوم نہیں کرسکتا یہ صرف نبوت کے نور سے ہی معلوم ہوتی ہیں،دیکھو حضرات صحابہ کرام اب بعد اسلام اپنے زمانہ جاہلیت کی باتوں پر خود ہنستے تھے کہ ہم اس وقت کیسے نا سمجھ تھے اب حضور کے صدقہ سے سمجھ بوجھ میسر ہوئی۔چھٹے یہ کہ حضور انور بڑے ہی اخلاق کے مالک تھے کہ اپنے کو اپنے خدام کے ساتھ رکھتے تھے ان کے ہر کام میں شریک ہوجاتے تھے۔