۱؎ اس طرح کہ میرا پیٹ زمین سے لگا ہوا تھا اور دونوں پاؤں پھیلے ہوئے تھے جسے کہتے ہیں اوندھا لیٹنا۔
۲؎ جندب حضرت ابو ذرغفاری کا نام ہے،کنیت ابوذر ہے۔اس فرمان کے دو مطلب ہوسکتے ہیں: ایک یہ کہ جہنمی لوگ یعنی کفار دنیا میں ایسے لیٹتے ہیں تم ان سے مشابہت نہ کرو۔دوسرے یہ کہ دوزخ میں کفار ایسے لٹائے جایا کریں گے ان کی پیٹھ پر کوڑے مارنے کے لیے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اپنی اولاد اپنے چھوٹوں کو پیار یا ناراضی میں ٹھوکر مارنا جائز ہے،حضرات صحابہ کرام تو حضور کی ٹھوکر کھانے پر فخر کرتے تھے آج ہم ان ٹھوکروں کے لیے ترستے ہیں۔شعر
شبلی تشنہ دیدار کو زندہ کرتے بخت خوابیدہ کو ٹھوکر سے جگاتے جاتے