| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت حذیفہ سے فرماتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی زبان پر وہ لعنتی ہے ۱؎ جو حلقہ کے بیچ میں بیٹھے۔(ترمذی،ابوداؤد)
شرح
۱؎ اس فرمان عالی کے دو مطلب ہوسکتے ہیں: ایک یہ کہ جو کوئی کسی جلسہ میں آخر میں آوے اور لوگوں کی گردنیں پھلانگتاہوا بیچ میں پہنچے وہ لعنتی ہے چاہیے کہ اگر کنارہ پر جگہ ملے تو وہاں ہی بیٹھ جاوے۔دوسرے یہ کہ یہ شخص درمیان میں بیٹھا ہو اور لوگ اس کے اردگرد دست بستہ کھڑے ہوں یہ عمل متکبرین کا ہے بڑا آدمی بھی لوگوں کے ساتھ حلقہ میں بیٹھے۔(مرقات و اشعہ)بعض لوگ مذاق دل لگی کرنے کے لیے کسی کو درمیان حلقہ میں بٹھاکر اسے مذاق کا نشانہ بناتے ہیں وہ ہر طرف کے لوگوں سے مذاق کرتا ہے وہ بھی لعنتی ہے۔(اشعہ)