Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
544 - 975
باب الجلوس و النوم و المشی

بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب  ۱؎
الفصل الاول

پہلی فصل
۱؎  یہ ترتیب یہاں بہت ہی اچھی ہے انسان پہلے کھانے وغیرہ کے لیے بیٹھتا ہے پھر کھا کر سونے کے لیے لیٹتا ہے سوکر اٹھتا ہے تو مسجد وغیرہ کی طرف جاتا ہے لہذا بیٹھنا پہلے ہے،سونا بعد میں،چلنا اس کے بعد ہوتا ہے۔خیال رہے کہ جلوس ہر بیٹھنے کو کہتے ہیں خواہ کھڑے سے بیٹھے یا لیٹے سے بیٹھے،بعض شارحین نے فرمایا کہ کھڑے سے بیٹھنے کو قعود کہتے ہیں اور لیٹے سے بیٹھنےکو جلوس مگر پہلی بات قوی ہے،یہاں جلوس مصدرہے بمعنی بیٹھنا،کبھی یہ جالس کی جمع بھی ہوتی ہے جیسے رقود جمع ہے راقد کی،رب تعالیٰ فرماتاہے:"تَحْسَبُہُمْ اَیۡقَاظًا وَّ ہُمْ رُقُوۡدٌ"فلاں جگہ جلوس نکلا وہاں جلوس جمع جالس کی ہے،چونکہ یہ لوگ جگہ جگہ بیٹھتے ہوئے جاتے ہیں لہذا اس جماعت کو جلوس کہا جاتا ہے۔اس باب میں مستحب،جائز،مکروہ بیٹھکوں کا بھی ذکر ہوگا اور مستحب و مکروہ سونے کا بھی اور اچھے برے چلنے کا بھی۔
حدیث نمبر 544
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو کعبہ کی صحن میں اکڑوں بیٹھے اپنے ہاتھوں پر ٹیک لگائے دیکھا ۱؎(بخاری)
شرح
۱؎  گھر کے سامنے کی کھلی جگہ جس پر چھت نہ ہو فنا کہلاتی ہے جسے اردو میں صحن یا آنگن کہتے ہیں۔احتباء یہ ہے کہ دونوں پنڈلیاں کھڑی ہوں،پاؤں کے تلوے زمین سے لگے ہوں،چوتڑ زمین پر ہوں اور دونوں ہاتھ پنڈلیوں پر رکھے ہوں،ان کا حلقہ کیے ہوئے یہ اکڑوں بیٹھنے کی ایک قسم ہے،اس بیٹھک میں اظہار جزو انکسار ہے یہ بیٹھک سنت ہے۔(مرقات)کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم اس طرح بھی بیٹھے ہیں۔
Flag Counter