Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
508 - 975
الفصل الثانی

دوسری فصل
حدیث نمبر 508
روایت ہے کلدہ ابن حنبل سے کہ صفوان ابن امیہ نے ۱؎ دودھ یا ہرنی کا بچہ اور ککڑیاں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس بھیجیں ۲؎ اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم مدینہ کے اعلیٰ حصہ میں تھے ۳؎ فرماتے ہیں کہ میں آپ کے پاس حاضر ہوا تو نہ میں نے سلام کیا نہ اجازت لی تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا لوٹ جاؤ پھر کہو السلام علیکم پھر اندر آؤ ۴؎ (ترمذی،ابوداؤد)
شرح
۱؎  کلدہ ابن امیہ ماں شریکے بھائی ہیں صفوان ابن امیہ کے،صفوان قرشی ہیں،فتح مکہ کے بعد اسلام لائے،مؤلفۃ القلوب سے ہیں،ان کا باپ امیہ ابن خلف بدر کے دن دوسرے مشرکین کے ساتھ مارا گیا،یہ مکہ معظمہ میں فوت ہوئے وہاں ہی دفن ہوئے،صفوان بڑے فصیح خطیب تھے۔(مرقات)

۲؎  جدایہ ہرنی کے شش ماہیہ بچے کو کہتے ہیں اور جدی بکری کے شش ماہیہ بچے کو کہا جاتا ہے، ضغابیس جمع ہے ضغیوس کی بمعنی چھوٹی ککڑی جسے پنجابی میں گلہ کہتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ گلے بہت پسند تھے۔

۳؎  مکہ معظمہ کے اونچے محلوں کو معلی کہا جاتا ہے اور مدینہ منورہ کے بیرونی بلند حصوں کو عوالی کہتے ہیں۔اشعہ نے فرمایا کہ حضور انور مکہ معظمہ کے اعلیٰ حصہ میں تھے،مرقات نے کہا کہ مدینہ منورہ میں یہ واقعہ ہوا حضور وہاں تشریف فرما تھے۔

۴؎  یہ عمل اس لیے فرمایا تاکہ انہیں یاد رہے اور آئندہ ایسی غلطی نہ کریں۔جو شخص ہمارے گھر میں بغیر سلام آئے اسے پھر باہر بھیجو اور کہو کہ دوبارہ سلام کرکے آؤ ان شاءاللہ ایک دفعہ کے عمل سے اسے سلام کی عادت پڑ جاوے گی۔
Flag Counter