۱؎ یا خط پر مٹی ڈال یا خط کو مٹی پر ڈالے اس سے حرف بھی خشک ہوجائیں گے اور ان شاءاللہ جس مقصد کے لیے خط لکھا گیا ہے اس مقصد میں بھی کامیابی ہوگی کہ مٹی ڈالنے میں اظہار عجز ہے اور رب تعالٰی کو عاجزی بڑی پیاری ہے۔شعر
عجز کار انبیاء و اولیاء است عاجز محبوب درگاہ خدا است
لہذا اگر کسی کو کسی چیز کی درخواست دینا ہو تو یہ عمل کرکے درخواست دے ان شاءاللہ کامیابی ہوگی،بعض شارحین نے مٹی ڈالنے کی اور بہت توجیہیں کی ہیں مگر حق یہ ہے کہ اس سے ظاہری معنی ہی مراد ہیں یعنی خط پر مٹی یا ریت چھڑک دینا۔
۲؎ طبرانی نے اوسط میں یہ حدیث بروایت حضرت ابوالدرداء بروایت صحیح نقل فرمائی لہذا اس حدیث کا متن صحیح ہے اگرچہ ترمذی والی اسناد منکر ہے۔(مرقات)