Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
494 - 975
حدیث نمبر 494
روایت ہے حضرت جابر سے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی تحریر لکھے تو مٹی اس پر ڈالے کہ یہ ضرورت کو بہت پورا کرنے والی ہے ۱؎(ترمذی)اور کہا یہ حدیث منکر ہے ۲؎
شرح
۱؎ یا خط پر مٹی ڈال یا خط کو مٹی پر ڈالے اس سے حرف بھی خشک ہوجائیں گے اور ان شاءاللہ جس مقصد کے لیے خط لکھا گیا ہے اس مقصد میں بھی کامیابی ہوگی کہ مٹی ڈالنے میں اظہار عجز ہے اور رب تعالٰی کو عاجزی بڑی پیاری ہے۔شعر

عجز کار انبیاء و اولیاء است	عاجز محبوب درگاہ خدا است

لہذا اگر کسی کو کسی چیز کی درخواست دینا ہو تو یہ عمل کرکے درخواست دے ان شاءاللہ کامیابی ہوگی،بعض شارحین نے مٹی ڈالنے کی اور بہت توجیہیں کی ہیں مگر حق یہ ہے کہ اس سے ظاہری معنی ہی مراد ہیں یعنی خط پر مٹی یا ریت چھڑک دینا۔

۲؎  طبرانی نے اوسط میں یہ حدیث بروایت حضرت ابوالدرداء بروایت صحیح نقل فرمائی لہذا اس حدیث کا متن صحیح ہے اگرچہ ترمذی والی اسناد منکر ہے۔(مرقات)
Flag Counter