۱؎ یعنی جب سوار اور پیدل مسلمان ملیں تو پیدل کو سوار سلام کرے کیونکہ سوار پیدل سے اعلیٰ حالت میں ہے اور سلام میں اظہار عجزونیازہے اس لیے وہ ہی اظہار نیازکرے جو بظاہر افضل ہے مگر یہ افضلیت کا ذکر ہے اس کے برعکس بھی جائز ہے۔
۲؎ یعنی جب کوئی شخص کسی بیٹھے ہوئے شخص کے پاس یا مجمع میں آوے یا ان پر سے گزرے تو وہ مجمع والے اس کو سلام نہ کریں بلکہ یہ آنے والا سلام کرے کہ ملاقات یہ کررہا ہے اس بیٹھے سے کررہا ہے اور سلام ملاقات کرنے والے کے لیے ہے۔
۳؎ جب دو طرفہ مسلمان آرہے ہوں اور دونوں یکساں حالت میں ہوں کہ یا دونوں سوار ہوں یا دونوں پیادہ ہوں تو قانون یہ ہے کہ تھوڑے آدمی بہت سوں کو سلام کریں تاکہ چھوٹی جماعت بڑی جماعت کا احترام کرے ممکن ہے کہ اس بڑی جماعت میں اللہ والے زیادہ ہوں بڑی جماعت کا بڑا احترام ہے۔