| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت خزیمہ ابن ثابت سے ۱؎ وہ اپنے چچا ابو خزیمہ سے راوی ۲؎ کہ انہوں نے خود کو اس حالت میں دیکھا جس کو سونے والا دیکھتا ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی پیشانی پر سجدہ کیا تو حضور کو خبر دی حضور انکے آگے لیٹ گئے اور فرمایا اپنی خواب سچی کرلو چنانچہ انہوں نے حضور کی پیشانی پر سجدہ کیا ۳؎ (شرح السنۃ)اور ہم ابوبکرہ کی حدیث گویا آسمان سے ترازو اتری الخ مناقب ابوبکروعمر میں بیان کریں گے۴؎
شرح
۱؎ آپ کا نام عبداللہ ہے،کنیت ابوعمارہ انصاری ہے،بدر اور تمام غزوات میں شریک ہوئے،جنگ صفین میں یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے،جب عمار ابن یاسر شہید ہوگئے تو آپ نے تلوار سونت لی اورلڑتے لڑتے شہید ہوگئے،بہت بڑے عابد زاہد صحابی ہیں۔(اشعہ و مرقاۃ) ۲؎ ابو خزیمہ مشہور صحابی ہیں،آپ کو ذوالشھادتین کہاجاتا ہے کیونکہ آپ کی گواہی دو گواہوں کے برابر تھی۔ ۳؎ اس طرح کہ حضور انور کی پیشانی پر اپنی پیشانی رکھ کر سجدہ کیا یہ سجدہ رب تعالٰی کو تھا سجدۂ عبادت تھا حضور کو نہ تھا بلکہ حضور کی پیشانی پر آج حضور انور کی پیشانی آپ کا مصلی تھا۔اس سے معلوم ہوا کہ اگر خواب میں کوئی عبادت کرتے دیکھے تو بیدار ہوکر کرے،بعض بے دین فی زمانہ پیروں ولیوں کو سجدہ کرنا جائز کہتے ہیں اور اس حدیث سے دلیل لیتے ہیں وہ نرے جاہل ہیں،مصلے پر سجدہ کرنا مصلی کو سجدہ نہیں ہوتا۔خیال رہے کہ کسی بندے کو سجدۂ عبادت کرنا شرک ہے سجدہ تعظیمی کرنا حرام ہے،حضرت آدم علیہ السلام کو فرشتوں کا سجدہ کرنا حکم شرعی نہ تھا کہ فرشتے احکام شرعیہ کے مکلف نہیں،نیز وہ سجدہ صرف ایک بار ہوا کسی نے کبھی حضرت آدم کو پھر سجدہ نہ کیا،یعقوب علیہ السلام اور ان کی اولاد کا حضرت یوسف علیہ السلام کو سجدہ کرنا حکم شرعی نہ تھا خواب کی تعبیر پوری کرنے کے لیے تھا جیسے ذبح اسمٰعیل علیہ السلام کا واقعہ کہ دین ابراہیمی میں ذبح اولاد حکم شرعی نہ تھا اسی لیے وہ سجدہ بھی صرف ایک بار ہوا،اگر سجدہ یوسفی سے دلیل لی جاوے تو چاہیے کہ یہ پیر اپنے مریدوں کو سجدہ کریں کیونکہ یعقوب علیہ السلام جو والد ہیں انہوں نے اپنے بیٹے یوسف علیہ السلام سجدہ کیا تھا۔سجدہ تعظیمی کی بحث ہماری تفسیر نور العرفان میں ملاحظہ کرو ۔سجدہ تعظیمی کی حرمت پر بہت احادیث وارد ہیں اس کے جواز کی کوئی حدیث نہیں محض ان جاہلوں کا قیاس ہے۔ ۴؎ یعنی وہ حدیث مصابیح میں یہاں تھی،ہم نے وہاں اس باب میں کی کہ اس میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ و حضرت فاروق رضی اللہ عنہ کی شان کا اظہار اس لیے وہاں کے مناسب ہے۔