روایت ہے حضرت ابو رزین عقیلی سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ مؤمن کی خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے اور وہ پرندے کے پاؤں پر ہوتی ہے جب تک اس کی خبر نہ دی جاوے جب وہ بیان کردی جاوے تو واقع ہوجاتی ہے ۲؎ مجھے خیال ہے کہ انہوں نے کہا کہ خواب نہ بیان کرو مگر دوست سے یا عاقل سے ۳؎(ترمذی)اور ابوداؤد کی روایت میں ہے فرمایا کہ پرندے کے پاؤں پر ہے جب تک تعبیر نہ دی جاوے جب تعبیر دے دی جاوے تو واقع ہوکر رہتی ہے غالبًا انہوں نے فرمایا کہ خواب نہ بیان کرو مگر محبت والے پر یا عقل والے پر۴؎
شرح
۱؎ آپ کا نام لقیط ابن عامر ابن صبرہ ہے،اہلِ طائف سے ہیں،مشہور صحابی ہیں۔ ۲؎ اس کی شرح پہلے کی جاچکی ہے یہاں اتنا سمجھ لو کہ خواب تعبیر سے پہلے اڑتی ہوئی چڑیا ہے جو ظاہر نہیں ہوتی مگر تعبیر ہوجانے کی صورت میں ضرور واقع ہوتی ہے اور تعبیر میں پہلی تعبیر کا اعتبار ہے بعد کی تعبیر دی ہوئی کا اعتبار نہیں۔ ۳؎ یعنی پہلی بارتعبیر لینے کے لیے اپنی خواب یا اپنے پیارے سے بیان کرو یا بہت سمجھ دار سے جسے خواب کی تعبیر کا علم ہو۔پیارا اگر تعبیر نہ جانتا ہوگا تو تعبیر دے گا ہی نہیں،عالم تعبیر دے گا مگر درست،بے علم بے وقوف سے خواب نہ کہو کہ وہ غلط تعبیر دے کر تمہاری خواب بگاڑ دے گا۔ حکایت: ایک عورت کا خاوند تلاش روزگار میں باہر گیا ہوا تھا عورت نے خواب میں دیکھا کہ میرے خاوند کے منہ سے کوے نکل کر اڑ رہے ہیں،اس نے اپنی پڑوسن سے بیان کیا وہ بولی کہ کوے تو مردے کے منہ سے اڑتے ہیں تیرا خاوند مرگیا ہوگا،پھر وہ عالم وقت کے پاس گئی انہوں نے فرمایا کہ تیرا خاوند توپ خانہ کا مالک کردیا گیا ہے،کچھ روز بعد اس کی موت کی خبر آگئی تو وہ پھر ان عالم کے پاس گئی اور ماجرا بیان کیا،عالم نے فرمایا کہ خواب کی پہلی تعبیر ہی ہوتی ہے تو نے اس نادان عورت سے اپنی خواب کہہ کر تعبیر خراب کرلی۔ ۴؎ کیونکہ خواب بظاہر کبھی بری ہوتی ہے لیکن درحقیقت اچھی کبھی برعکس اس لیے خواب اہل علم اور فن تعبیر جاننے والے سے کہو جو حقیقت تک پہنچ سکیں۔دشمن اپنی عداوت سے،بے وقوف اپنی حماقت سے اچھی خواب کو بری کردے گا بری تعبیر دے کر بلکہ بری خواب کی تعبیر ہی نہ دے کچھ صدقہ دلوادے۔
حدیث نمبر 458
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے ورقہ کے متعلق پوچھا گیا ۱؎ حضور سے جناب خدیجہ نے کہا کہ انہوں نے آپ کی تصدیق کی تھی ۲؎ لیکن اظہار سے پہلے وفات پاگئے۳؎ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ مجھے خواب میں وہ دکھائے گئے ان پر سفید کپڑے تھے اور اگر وہ آگ والوں سے ہوتے تو ان پر اس کے علاوہ لباس ہوتا ۴؎ (احمد،ترمذی)
شرح
۱؎ کہ ورقہ مسلمان ہیں یا نہیں،یہ ورقہ ابن نوفل ابن اسد ابن عبدالعزیٰ ابن قصی ابن کلاب ہیں،قرشی ہیں، حضرت خدیجہ کے چچا زاد بھائی ہیں،اسلام سے پہلے فوت ہوئے وہ عیسائی بن گئے تھے،حضور کا ابتدائی زمانہ نبوت پایا آپ کی تصدیق کی اس لیے بعض نے انہیں صحابی مانا ہے۔(مرقات)انجیل کا عربی ترجمہ آپ نے ہی کیا تھا کبھی بت پرستی نہ کی،آخر میں نابینا ہوگئے تھے،پہلی وحی کے موقع پر حضرت خدیجہ کا حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو ان کے پاس لے جانا اور ان کا حضور کو نبوت کی بشارت دینا اور تمناکرنا کہ کاش میں کچھ زندہ رہتا تو آپ کی اس وقت مددکرتا جب کہ آپ کی قوم آپ کو مکہ سے نکالے گی وغیرہ وغیرہ،بخاری شریف وغیرہ میں مذکور ہے۔ ۲؎ اور عرض کیا تھا کہ آپ پر جو فرشتہ آج اترا ہے یہ وہ ہی فرشتہ ہے جو موسیٰ و عیسیٰ علیہما السلام پر اترتا تھا۔یہ عرض معروض تصدیق کی علامت ہے فرمایا جاوے کہ وہ اس تصدیق سے مؤمن ہوئے یا نہیں۔ ۳؎ یعنی ورقہ بن نوفل اس سے پہلے ہی وفات پاگئے کہ آپ لوگوں پر اپنی نبوت ظاہر فرمادیں اور ان کو دعوتِ اسلام دیں۔ ۴؎ یعنی ورقہ کے متعلق ہم پر وحی جلی تو نہ آئی مگر وحی خفی یعنی خواب سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ جنتی ہیں۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مردے کو سفید لباس میں خواب میں دیکھنا اس کے جنتی ہونے کی علامت ہے اور یہ کہ حضرت ورقہ مؤمن ہیں مغفور ہیں بلکہ بعض کے نزدیک صحابی ہیں کہ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو بحالت نبوت پالیا اور حضور کی تصدیق کردی اگرچہ اعلان نبوت تبلیغ اسلام کا زمانہ نہ پایا انکے نزدیک یہ چیز صحابیت کے لیے کافی ہے۔