Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
441 - 975
حدیث نمبر 441
روایت ہے ابو سعید سے،فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اگر اللہ اپنے بندوں سے پانچ سال بارش روک لے پھر بھیجے ۱؎ تب بھی لوگوں کا ایک ٹولہ کافر ہی ہو کہ وہ کہیں کہ ہم برج مجدح کی وجہ سے برسائے گئے ۲؎(نسائی)
شرح
۱؎ پانچ سال کا ذکر بطور مثال ہے اس سے مقصود دراز مدت ہے یعنی اگر دراز مدت اور بہت انتظار کے بعد بھی بارش آوے تب بھی شکر نہیں کرتے کفر ہی کرتے ہیں۔

۲؎ مجدح میم کے کسرہ سے چاند کی ایک خاص منزل کا نام ہے جس کے متعلق مشہور ہے کہ جب چاند اس میں داخل ہوتا ہے تو ضرور بارش آتی ہے۔بعض نے فرمایا کہ مجدح تین تاروں کا نام ہے جن کے متعلق عرب کا عقیدہ تھا کہ بارش ان سے ہوتی ہے۔(اشعہ مرقات)جدح کہتے ہیں ستو گوندھنے کو ان تاروں کی شکل و ترتیب ایسی واقع ہے۔جیسے کوئی بیٹھا ہوا ستو گوندھ رہا ہے اس لیے انہیں مجدح کہتے ہیں۔جیسے عقرب قوس وغیرہ منزل ہے۔
Flag Counter