۱؎ پانچ سال کا ذکر بطور مثال ہے اس سے مقصود دراز مدت ہے یعنی اگر دراز مدت اور بہت انتظار کے بعد بھی بارش آوے تب بھی شکر نہیں کرتے کفر ہی کرتے ہیں۔
۲؎ مجدح میم کے کسرہ سے چاند کی ایک خاص منزل کا نام ہے جس کے متعلق مشہور ہے کہ جب چاند اس میں داخل ہوتا ہے تو ضرور بارش آتی ہے۔بعض نے فرمایا کہ مجدح تین تاروں کا نام ہے جن کے متعلق عرب کا عقیدہ تھا کہ بارش ان سے ہوتی ہے۔(اشعہ مرقات)جدح کہتے ہیں ستو گوندھنے کو ان تاروں کی شکل و ترتیب ایسی واقع ہے۔جیسے کوئی بیٹھا ہوا ستو گوندھ رہا ہے اس لیے انہیں مجدح کہتے ہیں۔جیسے عقرب قوس وغیرہ منزل ہے۔