| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت قتادہ سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان تاروں کو تین مقصدوں کے لیے پیدا فرمایا ۲؎ انہیں آسمان کی زینت اور شیاطین کی مار بنایا ۳؎ اور نشانیاں بنایا جن سے ہدایت لی جاوے ۴؎ تو جوان میں اس کے سوا تاویل کرے ۵؎ اس نے خطا کی اور اپنا حصہ ضائع کیا اور اس کا تکلف کیا جو وہ جانتا نہیں ۶؎ اسے بخاری نے تعلیقًا روایت کیا۔اور رزین کی روایت میں ہے کہ اس نے غیر مفید چیز کا تکلف کیا۔اور اس کا جس کا اسے علم نہیں،اور جس کے علم سے انبیاء و فرشتے ۷؎ عاجز نہیں
شرح
۱؎ آپ تابعی ہیں اور اس زمانہ کے مفسرین کے امام ہیں آپ کے حالات پہلے بیان ہوچکے ہیں۔ ۲؎ یعنی تاروں کے بڑے بڑے مقصد یہ تین ہیں جن کا ذکر قرآن مجید میں صراحۃً ہے۔ورنہ تاروں کی پیدائش کے ہزار ہا مقصد ہیں۔ ۳؎ چنانچہ قرآن مجید فرماتاہے:"زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصٰبِیۡحَ"اور فرماتاہے:"وَ جَعَلْنٰہَا رُجُوۡمًا لِّلشَّیٰطِیۡنِ"یہ تارے آسمان پر ایسے محسوس ہوتے ہیں جیسے پتلی چادر پر رنگ برنگے سلمے ٹکے ہیں۔ ۴؎ کہ تاروں سے وقت اور سمت معلوم کی جاتی ہے۔قطب تارے پر سمندری سفر،سمت قبلہ وغیرہ موقوف ہیں مسجدیں اس تارے سے بنائی جاتی ہیں رب فرماتا ہے:"وَ بِالنَّجْمِ ھُمْ یَھْتَدُوْنَ"لہذا ستاروں کی یہ تین صفات برحق ہیں۔ ۵؎ اس طرح کہ ان سے غیبی چیزیں معلوم کرے ان کو مؤثر مانے بارشیں موسم ان سے ثابت کرے جس کا نتیجہ شرک ہے۔ ۶؎ یعنی رب تعالیٰ نے اسے ان چیزوں کا مکلف نہیں کیا وہ غیر ضروری چیزوں میں پھنس کر ضروری عبادات سے غافل ہوجاتا ہے۔ ۷؎ یعنی حضرات انبیاء اورفرشتے بھی تاروں سے غیبی خبریں معلوم نہیں کرتے ان کے علوم وحی الٰہی ارشاد ربانی سے ہوتے ہیں اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان حضرات کو غیبی علوم دیئے نہیں گئے مقصد یہ ہےکہ ان تاروں کے ذریعے نہیں دیئے گئے یا یہ مطلب ہےکہ حضرات انبیاء کرام نے مخلوق کو تاروں کےذریعہ ہدایت نہ دی بلکہ اپنے ارشادات اور ربانی کلام کے ذریعے ہدایت دی علم بمعنی تعلیم لہذا تم ان تاروں میں سوچ بچار کرنے کی بجائے کتاب و سنت میں سوچ و بچار کرو۔(ازمرقات)